مری علاقے کے معدنی وسائل بلوچ قوم کے ہیں کسی ایک قبیلے کے نہیں،مہران مری

 مری  علاقے کے معدنی وسائل بلوچ قوم کے ہیں کسی ایک قبیلے کے نہیں،مہران مری 



جنیوا اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق میں بلوچ قومی نمائندہ اور  مری قبیلے کے سربراہ مہران مری نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ گزشتہ روز  پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے نمائندے چنگیز مری کی قیادت میں لیویز حوالدار  میرہزار مری، ربنواز ڑنگ اور کچھ دیگر ضمیر فروشوں سے بیان جاری کروایا جس  میں دعویٰ کیا گیا کہ مری قبیلے نے تمام اختیار و مختار ان کے نمائندے  چنگیز مری کے سپرد کئے اور اب مری علاقے سے بلوچ قومی وسائل اور معدنیات کو  نکال کر پنجاب کی بہبود کے لئے خرچ کیا جائے گا.۔مہران مری نے کہا کہ  پاکستانی فوج چنگیز مری کو انہیں وزاتیں اور دیگر مراعات سے نواز سکتا ہے  لیکن مری علاقے سے بلوچ قومی وسائل کو نکلوانے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا  ہے۔بیان میں چنگیز مری اور ان کے ضمیر فروش دم چھلوں نے یہ تاثر دینے کی  کوشش کی کہ مری علاقے سے نکلنے والے قدرتی وسائل صرف مری قوم کا ہے اور  چنگیز مری صرف انکے والی وارث ہیں لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پورا  بلوچستان بلوچ قوم کا ہے اور بلوچستان کے وسائل ایک قبیلے کے نہیں بلکہ  بلوچ قوم کے میراث ہیں۔ اپنے وطن کی ساحل و سائل کی حفاظت کے لئے ہزاروں  شہدا نے اپنا خون بہایا۔ انہوں نے کہا کہ چنگیز سے پہلے بھی پاکستان نے مری  علاقے سے اپنے زرخرید نمائندوں کے ذریعے معدنی وسائل کو نکالنے کی بھر پور  کوشیشیں کیں لیکن قوم نے نواب خیربخش مری کی سربراہی میں اپنے وسائل کا  بھر پور دفاع کیا اور آئندہ بھی اپنے رہبر نواب خیربخش مری کے فکرو فلسفے  پر کاربند رہ کر بلوچ قومی وسائل کا دفاع کریں گے ۔مہران مری نے کہا کہ  پنجاب بلوچ وسائل کی چوری کررہاہے بلوچ ساحل کو غیروں کو بیچ دیا گیا پنجاب  سے لاکھوں لوگوں کو بلوچستان میں بسایا جارہا ہے مکران تا کوہلو، ڈیرہ  بگٹی تا کوئٹہ غرض بلوچستان کے طول و عرض میں پنجابی فوج کے ہاتھوں بلوچ  قوم کی نسل کشی ہورہی ہے فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین تک محفوظ نہیں لیکن  چنگیز مری، ثنااللہ زہری سرفراز بگٹی، حاصل بزنجو و مالک اور ان کے بے ضمیر  حواری چند ٹکوں کی خاطر اپنی آنکھیں بند کرکے پنجاب کی جی حضوری میں مگن  ہیں لیکن انہیں یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ انہیں اور ان  کے آنے والے نسلوں کو بلوچستان میں ہی رہنا ہے۔بلوچ نسل کشی میں دشمن کا  ساتھ دینے، مدد کرنے اور اس جرم میں براہ راست ملوث ہونے کی پاداش میں قوم  ان کا احتساب ضرور کرے گی اور بلوچستان کی آزادی کے بعد ان کے لئے بلوچستان  میں رہنا مشکل ہوگا انہیں یا تو پنجاب یا چین کی طرف ہجرت کرنا پڑے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل