مغربی بلوچستان میں پاکستانی پراکسی وار پر خدشات کا اظہار حمایت نہیں،بلوچ رہنما اختر ندیم

کوئٹہ بلوچ آزادی پسند رہنما شے اختر ندیم بلوچ نے اپنے جاری کردہ تازہ  ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ مغربی بلوچستان کی صورت حال کے بارے میں ہمارے خدشات  کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جھوٹے بیان کو تسلیم کریں اور وہاں پاکستانی پراکسیز  کی حمایت کریں۔واضح رہے کہ ایک کاغذی تنظیم کی جانب سے گزشتہ روز ایک بیان  سامنے آنے کے بعد آزادی پسند رہنماکی جانب سے بروز بدھ مذکورہ ٹوئیٹ سامنے  آیا۔جبکہ 26 نومبر کو انہوں نے ایک اور ٹوئیٹ میں ثنا اللہ زہری کے ایک  بیان کے جواب میں کہاہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ثنااللہ زہری پچانوے فیصد  بلوچ آزادی پسند جنگجوؤں کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ خود  دارالحکومت کوئٹہ شہر میں سیر کیلئے نہیں نکل سکتے۔اسکے علاوہ دشت میں جاری  آپریشن اور سی پیک حوالے اپنے دو دیگر ٹوئیٹ میں اختر ندیم بلوچ نے کہاہے  کہ فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں بلوچستان میں ہزاروں مقامی لوگ در بدر ہوئے  ہیں۔ وہاں ایک بڑا انسانی بحران ہے۔ دشت آپریشن اور گوک اسکول مند بلوچستان  سے اساتذہ کا اغوا بلوچوں کو سی پیک کے راستے سے ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل