کوہ گراں تھے ہم"


کوہ گراں تھے ہم"

کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر فیڈل کاسترو کے بارے میں انتہائی متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ ان پر جان چھڑکتے تھے جبکہ انہیں جابر ڈکٹیٹر سمجھنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ کاسترو کے چاہنے والے انہیں اپنا نجات دہندہ اور مثالی رہنما قرار دیتے ہیں جبکہ مخالفین کی نظر میں وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ایک ظالم حکمران تھے۔سیاسی میدان سے ہٹ کر دیکھا جائے تو فیڈل کاسترو نے اپنے ملک کو صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیلوں کے حوالے سے اعلیٰ مقام پر پہنچایا۔کاسترو نے 1959 میں کمیونسٹ انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے امریکا نواز حکومت کا تختہ الٹا اور 2006 تک 47 برس ملک پر حکمران رہے۔ ان کی قیادت میں تمام عرصہ یہ چھوٹا سا ملک عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا۔کاسترو کا تعلق مشرقی کیوبا کے ایک خوشحال زمیندار گھرانے سے تھا۔ ان کے والد حملہ آور ہسپانوی فوج کے ساتھ کیوبا آئے تھے۔ کاسترو نے نجی کیتھولک سکولوں میں تعلیم پائی اور بعدازاں ہوانا کی یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ حصول تعلیم کے بعد وہ کئی سال وکیل کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔سیاست ان کا جنون تھا۔ 1952 میں انہوں نے کیوبن کانگریس کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تاہم اسی دوران جنرل بیٹسٹا نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اب کاسترو انقلابی بن گئے اور مسلح کوششوں سے بیٹسٹا کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ٹھانی۔26 جولائی 1953 کو انہوں نے سانتیاگو شہر میں فوجی چھاؤنی پر حملہ کیا جو ناکام رہا اور انہیں متعدد ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد انہیں معافی مل گئی اور وہ میکسیکو چلے گئے جہاں انہوں نے ایک مرتبہ پھر ساتھی جمع کر کے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات متعدد ہم خیال انقلابیوں اور ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے 'چی گویرا' سے ہوئی۔1956 میں یہ لوگ خفیہ طریقے سے کیوبا آئے اور ڈھائی سال تک بیٹسٹا حکومت کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے کے بعد 1959 میں اسے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔
کاسترو نے حکومت سنبھالنے کے بعد ملک میں کمیونسٹ نظام رائج کیا۔ روزاول سے انہیں امریکا کی شدید مخالفت کا سامنا رہا۔ امریکی حکومت نے کیوبا سے تعلقات ختم کر کے اس پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں جس کے نتیجے میں فیڈل کاسترو نے سوشلسٹ بلاک کا رخ کیا۔کہا جاتا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے فیڈل کاسترو کو ہلاک کرنے کی 638 کوششیں کیں مگر وہ ہر مرتبہ بچ نکلے۔ کاسترو نے سوویت یونین، چین اور مشرقی یورپ سے تجارتی تعلقات قائم کیے اور دنیا میں امریکا کے کٹر دشمن کے طور پر جانے گئے۔1962 میں سوویت یونین نے اپنے جوہری میزائل کیوبا میں نصب کرنے کا فیصلہ کیا تو دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر پہنچ گئی تھی۔برسراقتدار آنے کے بعد ابتدا میں کاسترو کا ذرائع پیداوارکو قومی ملکیت میں لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس کے بجائے ان کا پروگرام سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری اصلاحات پر مشتمل تھا۔تاہم کاسترو کی اصلاحات کے ذریعے عوامی معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش ہی ان کے امریکی سامراج سے تصادم کا باعث بن گئی۔ چنانچہ انقلاب کے فوائد کا دفاع کرتے ہوئے کاسترو کو جائیدادیں قومی ملکیت میں لینے اور کیوبا سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔اگرچہ کیوباکا انقلاب روس کے کلاسیکل ماڈل کی پیروی نہ کرسکا اور کارکنوں کو کبھی بھی اقتدار میں شریک ہونے کا موقع نہ ملا مگر اس کے باوجود کاسترو کو مسلسل عوامی حمایت حاصل رہی۔جاگیرداری اور سرمایہ داری کے خاتمے نے سامراج کوشدید ضرب لگائی اور کیوبا میں امریکا اپنی انگلیاں جلا بیٹھا۔1990 میں سوویت یونین کو زوال آیا تو کیوبا کو شدید اقتصادی مسائل کا سامنا رہا کیونکہ اس کی 80 فیصد تجارت سوویت یونین سے ہی تھی۔ اس موقع پر کاسترو نے کیوبا میں کڑی معاشی اصلاحات نافذ کیں اور انقلاب کے تحفظ میں کامیاب رہے۔
2006 میں فیڈل کاسترو نے خرابی صحت کے باعث 80 سال کی عمر میں صدارت چھوڑ دی اور اپنے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو جانشین بنایا جو انقلابی جدوجہد میں ان کے نائب تھے۔کاسترو کی قیادت میں کیوبا نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے تاہم مجموعی طور پر کیوبا کے عوام فیڈل کاسترو کے ساتھ رہے۔ ان کی داخلی و اقتصادی پالیسیوں سے امن عامہ، صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں مثالی بہتری و ترقی دیکھنے کو ملی۔ آج کیوبا کے 50 ہزار ڈاکٹر دنیا کے 60 ترقی پذیر ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیلسن منڈیلا سے بان کی مون تک بہت سے قابل قدر عالمی رہنماؤں نے اس ضمن میں کاسترو کو سراہا ہے۔145 کلومیٹر کی دوری پر واقع امریکا کی شدید مخالفت کے باوجود کیوبا کے انقلاب میں دراڑیں نہ ڈالی جا سکیں اور یہ آج بھی قائم ہےجس کا کریڈٹ کاسترو کی پالیسیوں کو جاتا ہے۔رواں سال اپریل میں کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا کی کانگریس میں وہ آخری مرتبہ منظر عام پر آئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ اب وہ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔فیڈل کاسترو دنیا کو کب تک یاد رہیں گے؟اگر گوگل پر Fidel Castro لکھا جائے تو ان کے بارے میں 2 کروڑ حوالے سامنے آتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا ان کی قومی و بین الاقوامی سیاست میں کس قدر دلچسپی لیتی رہی ہے۔فیڈل کاسترو کو بیک وقت مطلق العنان آمر اور سامراج دشمن انسان دوست رہنما کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کی قیادت میں کیوبا نے کئی دہائیوں تک سرمایہ دارانہ مغرب کے چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی وفات کے بعد بھی اس مورچے پر ثابت قدمی سے ڈٹا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل