شہید لونگ خان کے بیٹے و اختر مینگل کے دست راست قمبر خان کی بلوچ جہد کیخلاف کارستانیاں، تفصیلی رپورٹ

کوئٹہ(سنگر  تحقیقاتی رپورٹ)پاکستانی قبضہ گیر فورسزو خفیہ اداروں کا بلوچ تحریک آزادی  کیخلاف ایک نئے وطیرے کا آغاز،مذہبی شدت پسندوں کے استعمال کے بعد اب بلوچ  قومی تحریک آزادی میں ایک تاریخ رکھنے والے خاندانوں جنہوں نے پاکستانی  قبضہ گیر کیخلاف بلوچ زمین کی جدو جہد میں عظیم قربانیاں دیں ان کے اہلخانہ  و فرزندان کو اب بلوچ تحریک آزادی کے جہدکاروں کے خلاف استعمال کرنے کا  عمل شروع کردیا ہے ۔ہماری اطلاعات کے مطابق عظیم گوریلا کمانڈر و آزادی  پسند شہید رہنما لونگ خان جو بلوچ جدو جہد میں ایک عظیم تاریخ رکھتے ہیں  انکے فرزند قمبر خان مینگل نے اپنے والد کی تعلیمات و عظیم قربانیوں کو  مسترد کرکے قبضہ گیر پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے بل بوتے پرآزادی کے  جہدکاروں کیخلاف بندوق اٹھاکر اپنی ڈیتھ اسکواڈ قائم کئے ۔ جنکی پشت پناہی  آئی ایس آئی ،ایم آئی و پاکستانی فوج قوم پرستی کے عویدار جماعتوں کی صورت  میں کر رہے ہیں۔قمبر خان کے بیٹے پسند خان، بالاچ خان ،بلوچ خان سمیت اسکے  کئی عزیز و اقارب قلات ،سوراب،دشت گوران کو گرد نواح میں اپنی ڈیتھ اسکواڈ  کی کیمپ قائم کرنے کے ساتھ عوام کی زمینوں پر قبضہ،بھتہ و آزادی پسندوں کی  مخبری،قتل و غارت میں ملوث ہیں۔عوامی سطح پر ان لوگوں کے خلاف سنگر کو بے  شمار میل موصول ہونے کے بعد ادارہ سنگر نے تحقیقات کا آغاز کیا جسکی پہلی  رپورٹ کو شائع کیا جار ہا ہے۔قلات،خاران، نوشکی،دشت گوران کے نامہ نگاروں  کی جستجو جاری ہے کہ قمبر خان و اسکے گروہ کے بلوچ دشمنی والے کارناموں کے  مزید ثبوت قوم کے سامنے لائے جا ئیں۔قمبر خان شہید لونگ کے بیٹے ہیں اور جب  آزادی کی جہد شروع ہوئی اور دشت و قلات میں بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے قدم  جمائے تو کچھ ہی عرصے بعد قمبر خان نے بلوچ آزادی پسندوں کو خوش آمدید کہا  اور اطلاعات کے مطابق2011 تک وہ بی ایل اے کے ساتھیوں کی راشن و دیگر کاموں  میں معاون کار رہے۔ (سنگر پالیسی کی وجہ سے مصدقہ ذرائع ناموں کو سامنے  نہیں لایا جا رہا ہے،جبکہ بلوچ آزادی پسند تنظیموں کو وہ نام دئیے جا سکتے  ہیں) اسی دوران قمبر خان کی نزدیکی مینگل قبائل کے کچھ لوگوں کی وجہ سے آئی  ایس آئی سے ہونا شروع ہوئی،اور پھر ریٹائرڈ فوجی آفسر آصف ذگر مینگل سے  کرائی گئی ۔واضح رہے کہ مذکورہ فوجی آفسر کا تعلق بی این پی مینگل سے ہے  اور خاران،نوشکی ،قلات،دشت گوران،نیمرغ میں باقاعدہ یہ آفسرمذہبی ڈیتھ  اسکواڈوں کے ساتھ ہے اور اب اسی نے قمبر جیسے دیگر لوگ بھی بلوچ آزادی کی  تحریک کے خلاف کھڑے کیے ہیں ۔
 اب قمبر خان اور اسکے دیگر تین بیٹے پسند خان،بالاچ اور بلوچ خان بھی بلوچ  آزادی پسندوں کے خلاف اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ریاست کا ساتھ دے رہے  ہیں۔واضح رہے کہ 2014 سے پہلے قمبر خان کے تعلقات آزادی پسندو مزاحمتی  تنظیموں سے تھا اور وہ انکے لیے معاون کار کا کردار ادا کرتا تھا۔اسی دوران  دشت گوران میں اسکا اپنا کیمپ تھا اب کے مصدقہ اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت  بھی آر سی ڈی روڈ پر لوٹ مار اور اغوا برائے تعاون میں ملوث تھا۔کچھ  مہینوں میں لوگوں کو تنگ کر کے ان کے مال مویشوں کی لوٹ مار اور لوگوں  فورسز کے سامنے سرنڈرکرانے سمیت پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر انکے خلاف  آپریشن کی دھمکیوں جیسے واقعات کے سامنے آنے کے بعدشہید لونگ خان کے بیٹے  قمبر خان کی اصلیت سامنے آگئی۔اہم رپورٹ کے مطابق قمبر خان نے اس وقت براہ  راست پاکستانی فوج سے رابطے اور کھل کرآزادی کے جہد کاروں کے خلاف کام کیا ۔  بی ایل اے و دیگر آزادی پسند تنظیموں کے درمیان 2014 میں اختلافات سامنے آ  گئے۔حالانکہ اس سے قبل بھی آزادی پسندوں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اسکے خفیہ  تعلقات فورسز کے ساتھ تھے،اب اس بارے آزادی پسندوں کو اطلاعات نہ تھیں یایہ  انکی خاموشی کی پالیسی تھی،وہی بہتر جان سکتے ہیں۔2014 ہی میں نوشکی کے  ریٹائر فوجی آفسر آصف مینگل سے اسکے تعلقات قریبی استوار کیے گئے ،اس سے  قبل سعید نامی فوجی آفسر کے ساتھ اسکے رابطے تھے جو مینگل قبائل سے تعلق  رکھتا ہے۔واضح رہے کہ سرکاری آفسر آصف کا تعلق بی این پی مینگل سے ہے اور  وہ اختر مینگل کا اہم ساتھی بھی ہے۔ قمبر خان جن قبائلی لڑائیوں کا سہارالے  کر آزادی پسندوں کے خلاف اپنی لشکر یکجا کر رہا ہے ،اس لڑائی میں اب تک 9  مینگل اور39 سناڑی معصوم بلوچوں کو اس نے اپنی سرداری کے چکر میں قتل کیے۔  ثناہ زہری کی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اس کے گھروں پر بمباری کرائی گئی اور  یہ خود دشت گوران کے پہاڑی سلسلوں م میں اپنے بڑے بیٹے پسند خان کے ساتھ  منتقل ہو گیا۔ جبکہ دوسرا بیٹا بالاچ بھی اسکے ساتھ ہے مگر وہ زیادہ تر  دیگر علاقوں میں قائم کیمپوں میں گھوم کر بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف کا م  کر رہا ہے۔ اسی دوران چھوٹے بیٹے کو خاندان کے دیگر لوگوں کے ہمراہ اختر  مینگل کے پاس منتقل کیا گیاآج بھی بلوچ خان اختر مینگل کے ساتھ دیکھا جا  سکتا ہے اور اسے وہیں پر زمین دی گئی اور آج کل اختر مینگل کے ہاں وڈھ میں  رہائش پذیر ہے۔
 ثناہ زہری جو سناڑی زہری کی پست پناہی کر رہے ہیں جب قمبر خان کے اوپر فوج  کے ذریعے حملہ کیا گیا تو اس کے بعد قمبر خان نے بھی فوج کے ساتھ تعلقات  مینگل گروپ کے ذریعے مزید مضبوط کر لیے۔دشت گوران میں تمام مینگل و دیگر  قبائل سے مدد مانگی کہ قبائلی لڑائی میں میری مدد کی جائے۔آن ریکارڈ سنگر  کے پاس وہ بیانات موجود ہیں جب وڈھ سے اختر مینگل نے اس کیلئے مدد بھیجی  اور لوگوں کو زبردستی اسی روڈ پر قائم سی پیک کی سیکورٹی میں مورچوں پر  بٹھا دیا۔ اور علاقائی لوگوں پر تاحال تشدد لوٹ مار جاری ہے کہ وہ آزادی  پسندوں کے خلاف اسکا ساتھ دیں۔
 تحقیقات کے مطابق بی آر اے کے ساتھی مزار ساسولی کو درخان بگٹی سے طالبان  کے ذریعے اغوا کرایا گیا۔اس کے بعد قمبرنے اسکے گھروں میں لوٹ مار کے بعد  اسکے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ وہ اپنے دیگر لوگوں کو  سرنڈر کرائیں تو مزار ساسولی کو رہا کیا جائے گا۔اسی دوران وہ  سناڑی،مینگل،سمالانی،ساسولی و دیگر آباد قبائل کے مال مویشیوں کو لوٹ مار  کے بعد انکو مجبور کرا رہا ہے کہ وہ آزادی کی تحریک کے خلاف انکا ساتھ دیں  بصورت دیگر فوج کے ذریعے انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔اب تک قمبر خان نے فوج  کے ساتھ مل کر 6 کیمپ قائم کیے ہیں۔نیمرغ میں ایک کیمپ کا سربراہ رحیم  ساسولی ہے جو ان علاقوں میں فوج کے ساتھ کئی آپریشنوں میں دیکھا گیا  ہے۔بدنام زمانہ شفیق مینگل ڈیتھ اسکواڈ میں جنگی خان مینگل اور کوہی مینگل  سب کو یاد ہونگے وہ اسی قمبر خان کے بھائی میر اصغر مینگل و شائستہ خان کے  بیٹے ہیں۔
 تحقیقات سے معلوم ہوا کہ میر شاہستہ خان کے بیٹے کوہی اور جنگی عرصہ دراز  سے شفیق مینگل کی ڈیتھ اسکواڈ و طالبان گروپ کے ساتھ تھے اب وہی دونوں  درجنوں بلوچوں کی مسخ لاشوں اور اجتماعی قبروں کے بعد قمبر خان کے ساتھ  ہیں۔ شہید لونگ خان کے بیٹے اور سردار اختر مینگل کے دست راست قمبر خان نے  قبائلی لڑائیوں و ان تمام لوگوں کو یکجا کر کے اب آزادی کی تحریک کے خلاف  فوج کے ساتھ ایک ہی صف پر کھڑے کئے ہیںیہ گروہ اس وقت آر سی ڈی شاہراہ پر  چوری ڈکیتی و رہزنی کے کاموں میں کھلے عام ملوث ہیں۔سوراب سے قلات خاران  ،نوشکی ان تمام علاقوں میں لوٹ مار اغوا برائے تعاون اور لوگوں کی مال  مویشیوں پر حملہ اور قبضہ انکے کارنامے ہیں،جو بھی آزادی پسندوں کے خلاف  کام سے انکار یا اسکے حکم کی تکمیل نہیں کرتا نہیں علاقہ بدر او زانکے  مینوں پر قبضہ کرتا ہے۔کچھ مدت قبل منگو چر سے ستر سالہ میر محمد یوسف کو  اغوا کر کے ذاتی دشمنی کا نام دیکر انکے خواتین و بچوں کی بے حرمتی کی اور  انکے زمینوں پر قبضہ کیا۔واضح رہے مزار ساسولی کے بھائی کو قمبر نے بلایا  کہ تم میرا ساتھ دو اور پاکستانی فوج کے سامنے سرنڈر کر لو مزار ساسولی کو  رہا کر وا دونگا۔اسی دوران قمبر نے اسے کہا کہ یہاں بی ایل اے کی تعداد ختم  اور کمزور ہو گئی ہے،اب جلد یہاں سے بی ایل اے کو ختم کر دینگے اور اسکے  بعد بی ایل ایف کے اوپر پوری طاقت سے زمینی و فضائی کاراوئی کر کے انھیں  بھی ختم کر دینگے۔اس لیے تم اور تمہارے لوگ میرا ساتھ دیں۔ تحقیقات سے  معلوم ہوا کہ قمبر خان نے اسے ایک فوجی کیپٹن سے بھی ملایا۔ خاران میں بی  ایل اے کے سرنڈر کردہ احمد نواز ساسولی کی سربراہی میں ایک ڈیتھ اسکواڈ  قائم کی گئی جبکہ اسکے ساتھ ، ظفر ساسولی بھی شامل ہیں ۔دس روز قبل خاران  لجہ میں جو زمینی و فضائی آپریشن کی گئی اس میں براہ راست احمد نواز  ساسولی، ، ظفر ساسولی کو فوج کے ساتھ دیکھا گیاہے۔سوراب ،ماراب سیاہ کمب کی  طرف میر حبیب اللہ مرداشہی ڈیتھ اسکواڈ کی نگرانی اور فوج کا آزادی پسندوں  کے خلاف ساتھ دے رہا ہے۔سوراب سے دشت گوران،قلات،نوشکی،خاران ان تمام  علاقوں میں پاکستانی فوج کی ہر قسم کی معاون اور آزادی پسندوں کے خلاف  کاروائیوں کی پس پردہ پشت پناہی قمبر خان کر رہے ہیں۔جس کو ذرائع کے مطابق  اختر مینگل و گروہ نے ثناہ زہری کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کھڑا کیا  ہے۔کچھ مدت پہلے ایک باشعور نوجوان کو قمبر خان نے بلایا اور کہا کہ تم  سرنڈر کرلوجس پراس نوجوان نے کہاکہ میرا باپ تو اس وقت قبائل کی وجہ سے لڑا  تھا،آزادی وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا اورمیرے ہاتھ میں بندوق بھی نہیں ہیمیں  کیوں سرنڈر کر لوں؟(تحقیقات کے مطابق سیکورٹی کی وجہ سیکچھ حقائق و حالات  کو مدد نظر رکھ کراس رپورٹ میں شائع نہیں کیا جارہا ہے تاہم وہ قومی ثبوت  کے طور ادارہ کے پاس محٖفوظ ہیں) پھر کسی طرح سے وہ نوجوان وہاں سے نکلنے  میں کامیاب ہو گیا اور سنگر تحقیقاتی ٹیم کوکو حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا  کہ شہید لونگ خان کے بیٹے قمبر نے اسے ریٹائر فوجی آفسر اصف کے ساتھ ملایا  اور پھر نوشکی آرمی کیمپ میں ایک اور فوجی آفسر سے ملایا گیا کہ یہ اہم شخص  ہے اور جلد ہم اس کے ذریعے بی ایل اے اور بی ایل ایف کا مکمل ان علاقوں سے  صفایا کر دینگے۔پھر اس فوجی آفسر نے مجھے شاباشی دی اور پاکستانی چھوٹا  جھنڈا لگایا اور پانچ ہزار روپے ایک لفافے میں دیے اور کہا کہ باقی کام  سردارقمبر خان اور اصف صاحب سمجھا دینگے۔
 اس نے بتایا کہ کئی دن تک قمبر کے ساتھ رہا جہاں قمبر نے دو سو کے قریب عام  بلوچوں کو ڈرادھمکاکر سرنڈر کرایا ،جن کا مزاحمتی تنظیموں سے کوئی تعلق نہ  تھا اسکے بدلے کسی کو ایک ہزار تو کسی کودو ہزار دئیے اور خود فی بندہ  پچاس ہزار پاکستانی فوج سے وصول کیے۔آج بھی قمبر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر  اپنے ساتھ شامل کر رہا ہے اور سی پیک روٹ خاران سے دشت گوران ،قلات،نوشکی  تک کی مکمل سیکورٹی کی ذمہ داری اسے دی گئی ہے جسکا سردار اختر مینگل کو  اچھی طرح پتا ہے۔مذکورہ نوجوان کے مطابق قمبر نے خود اعتراف کیا ہے کہ ثناہ  زہری کو کاؤنٹر کرنے اور اختر مینگل کو اگلی دفعہ حکومت میں لانے کے لیے  ہمیں پریشر کے طور پر بھی کچھ کام کرنے ہونگے۔جنکے بارے میں ادارہ مزید  جاننے کی کوشش میں ہے۔قمبر خان آج قبائل لڑائی کے نام پر بلوچ قبائل کو مدد  کے لیے بلا کر انھیں بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔جن جن  علاقوں میں آزادی پسندوں کے رشتہ دار یا خیر خواہ ہیں ان لوگوں کو پاکستانی  فوج کے سامنے سرنڈر نہ ہونے یا اپنے ماتحت کام نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ  بنایا جاتا ہے اور علاقہ بدر کر کے انکی زمینوں پر قبضہ کیا جاتا ہے۔مقامی  عوامی حلقوں کے مطابق سردار اختر مینگل جس انداز سے قمبر خان کی بلوچ دشمن  پالیسیوں کا پس پردہ حصہ ہیں یہ انکے لیے ایک سخت چیلنج کے ساتھ عوام میں  انکی بچی کچھی ساخت کو جلد ہی تباہ کردے گا۔ہمارے رپورٹ کے مطابق اس وقت  نیشنل پارٹی،زہری ودیگر کے بعد سردار اختر مینگل کی بی این پی کا پاکستانی  فوج کے ساتھ معاون کار کے طور پر سامنے آنا اس خاندان کے لیے ایک خطرناک  المیہ ہے تو دوسری جانب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جاوید مینگل اور اختر  مینگل کی قربت اور پھر اختر مینگل کی پاکستانی فوج کے ساتھ معاون کاری اب  جاوید مینگل کی آزادی کے دعوئے پر بھی کئی سوالیہ نشان پیدا کر چکا ہے۔زگر  قبائل کے ایک بزرگ نے نمائندہ سنگرکو بتایا کہ قمبر خان پاگل ہو چکا ہے  اختر مینگل نے شفیق مینگل و پاکستانی فوج میں دباؤ قائم کرنے کے لیے قمبر  کو استعمال کیا ہے اب قمبر خان اندھا ہو چکا ہے اور اپنے لوگوں کی مال  مویشیوں کی لوٹ مار کے ساتھ لوگوں کو اغوا کر کے بھاری تعاون وصول کررہاہے۔  انہوں نے بتایا کہ رمضان ریکی نامی کاروباری شخص کو اغوا کرنے بعد چالیس  لاکھ تعاون دے کر رہا کیا گیا جبکہ اسی طرح کچھ وقت قبل ناصر ریکی کو اسکے  پٹرول پمپ سے سرے بازار فوج کے سامنے اغوا کر کے 25 لاکھ تعاون لے کر چھوڑ  دیا گیا۔ہماری تحقیق کے مطابق اس وقت قمبر خان کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں  سمیت فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے ایک اور ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر لوٹ  مار کے مال کا ایک حصہ نوشکی کے فوجی کرنل کو بھی دیا جاتا ہے جو ریٹائر  فوجی آفسر آصف کے ذریعے سارا بٹوارا ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل