پہاڑ کے دکھ تحریر: سیم زہری

 

پہاڑ کے دکھ

تحریر: سیم زہری

میں اپنی تعلیم کے سلسلے میں اکثر کوئٹہ جاتا رہا ہوں بلکہ یہ سلسلہ بچپن سے چلا آ رہا ہے جب زہری کی سڑک کچی تھی اور راکٹ بسوں کا زمانہ تھا. اب دور بدل گیا تو دنیا کی ترقی کے جھونکے ہم تک بھی پہنچے. بسوں کی جگہ اب تیز رفتار منی بسوں نے لی. ہمیشہ کی طرح صبح سویرے منی بس میں سیٹ لی اور روانہ ہوا. حسب معمول ہم سب سواری ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور دوران سفر ایک گھر کے بھاتیوں جیسا ماحول ہوتا ہے. زہری بازار سے نکلے گاڑی اپنے منزل کی جانب گامزن ہے اور ہم سب دنیا جہاں کے خیالات میں ایسے کھوئے ہوئے کہ اپنا بھی پتہ نہیں. میں زہری سے ویگن میں نکل کر اکثر دائیں ہاتھ والی سائڈ پر بیٹھتا ہوں اور انجیرہ تک پہنچتے پہنچتے پہاڑوں سے باتیں کرتا رہتا ہوں. مجھے یوں لگتا ہے جیسے ان پہاڑوں نے ساری رات چوکیداری کرنے کے بعد سورج کی تپش محسوس کرنے اپنا سر سڑک کنارے زمین پر رکھے کان لگائے کسی سرگوشی کے منتظر ہیں.
نورگامہ گودام سے گزرنے کے بعد پھر کوچاو خاخوئی پہنچتے ہی وہ مجھ سے بغل گیر ہو جاتے ہیں سنی پہنچ کر وہ میرے دائیں بائیں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے درمیان میں جکڑ لیتے ہیں اور باتوں کا سلسلہ چل نکلتا ہے. میں انہیں اپنے دکھ درد خوشیاں سناتا رہتا ہوں اپنا بیتا ہر لمحہ ان کو لفظ بہ لفظ کہتا جاتا ہوں اور وہ بھی کسی مہربان محبوبہ کی طرح مجھے سنتے وقت پلکیں تک نہیں جھپکاتے. شاید کبھی آپ لوگوں نے بھی ان پہاڑوں سے ڈھیر ساری باتیں کی ہوں گی، بہت کچھ سنا اور سنایا ہوگا آپ اپنے وہ محسوسات کس طرح بیان کرسکتے ہیں اس کا آپ کو علم ہو گا لیکن میں اس رشتے کو آج تک کوئی نام نہیں دے سکا. احساس کے اس رشتے کا نام کیا ہے میں جان نہ سکا. بس اتنا جانتا ہوں وہ میرے ہیں اور میں ان کا، بس اتنا جانتا ہوں کہ اس گفتگو کو تب تک سنتا رہتا ہوں محسوس کرتا رہتا ہوں جب تک واپس اپنے علاقے کا رخ نہ کر لوں اور پھر سے ہم ایک دوسرے سے بغل گیر نہ ہو جائیں. یہاں سے جاتے ہوئے تب تک میں انہی وادیوں کے آغوش میں کھویا رہتا ہوں.
انجیرہ ایف سی چوکی کراس کرنے کے بعد یہی پہاڑ شاٹ کٹ مار کے طارقی جھل کے پاس دوبارہ پھولے سانسوں کے ساتھ مجھ سے ہمکلام ہوتے ہیں. مگر دوران سفر مجھے انکی یہی جدائی ہربار دلخراش گزرتی ہے کہ کیسے میرے مکان کے پہلو سے کھلکھلا کر میرے ساتھ مسکر کر چلنے والے یک دم سے ایک جابر کی گرفت میں مجھے چھوڑ دیتے ہیں؟ میں نے ایک دن پوچھا ان چٹانوں سے کہ انجیرہ کے کراس پر اور دشمن کی چوکی کے قریب پہنچ کر مجھے اکیلے چھوڑتے ہو بھلا یہ بھی کوئی دوستی ہے؟ اسے کہتے ہو اپنا پن؟ کبھی کبھی اسی بات پر ہمارے درمیان تکرار ہوتی ہے جذبوں کا، رشتوں کا، دوستی کا بھرم رکھ کر وہ خاموش ہوتے ہیں اور میں خوب سناتا رہتا ہوں کبھی مجھے پلٹ کر انکا جواب نہیں ملا مگر میں تھا کہ انکے اس خاموشی کو سمجھ نہ سکا اس بار بھی یوں ہی جاتے جاتے مجھے ان سے یہی شکایت رہی کہ بھلا کچھ تو بولو اس خاموشی کو کوئی تو توڑ دے کیا یہی دوستی رہی کیا یہی اپنا پن رہا کیا ہمارے اس رشتے کا معیار سختی میں الگ اور نرمی میں الگ ہے ؟
پھر دور سے ایک دھیمی سی آواز اٹھی اور میری نس نس کو ویران کر کے گزر گئی. مجھ سے مخاطب وہ چٹان کہنے لگا کہ ہم پہاڑ ہیں پتھر ہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تمھارے منہ میں جی میں جو آئے کہہ دو. تم انسان ہو کر اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کیا سمجھ بیٹھے کہ ہماری معمولی سی غلطی کو پہاڑ جتنا بنا دیا اور چند لمحوں کی جدائی برداشت نہ کر سکے. چند بوٹوں کے آہٹ و کسی لوٹیرے جاگیردار کے رستے سے ہو کر اتنا خوف کہ ہم اکیلے چھوڑ دیئے چند لمحے ہم کیا بے خبر ہوئے تم پے لرزاں تاری ہوئی اچھا ہم مانتے ہیں ہمیں یہ زیب نہیں دیتا ہمیں یوں ساتھ چلتے چلتے یوں جدا ہونا نہیں چاہئیے. ایسے موقع پر تو اور بھی تمہارے ساتھ تمہارا ہم قدم رہنا چاہیے تھا. مگر تمارے ساتھ مسلہ کیا ہے؟؟؟ ہم تو تم لوگوں کی جدائی بلکہ تم لوگوں کی بے رخی نسلوں سے برداشت کرتے آ رہے ہیں اُسکا کیا؟ تمہارے پچھلے کئی نسلیں ہمارے دامن میں پیدا ہوکر پلے بڑھے ایک زندگی گزارکر یہیں دفن ہوئے پھر تمہارا دادا اسکے بعد تمارا باپ اور اب تم تمام کے تمام یہیں ہماری چھاتی پر بڑے ہوئے مگر کبھی ہمارا خیال تک بھی آیا تمہیں کہ کس کرب ناک زندگی سے گزر رہے ہیں. نہیں سنا……… تمہارے دادا اپنے گنبد کو سنبھالنے میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں اپنے ریوڑ کے سیوا سب جانور اور اپنی ایک پہاڑی کے علاوہ سب بنجر دکھ رہا تھا تمہارا باپ بوڑھے والد کو خوش رکھنے کے لیے اسکے ہی نقش قدم پر چل پڑا اسکے بعد اب تم اپنی خوشحال زندگی کی جتن میں ہزاروں خون کی چھینٹوں سے بے خبر زہری سے شال تک کا سفر کرتے ہو. تمہیں معلوم ہو نہ ہو مجھے وہ آج بھی یاد ہے جب تمہارے دادا کے جوانی میں ایک یزیدی فوج ہمارے دامن کو روند کر قلات پر حملہ آوار ہوا. قلات سے بولان، مکران سے جھالاوان، ڈیرہ جات و کوہستان سے رخشان تفتان تک یک لخت آہ و پُکار رو رہے تھے چیخ رہے تھے سنا کسی نے؟ قلات سے آواز اٹھی قلات میں دفن ہوئی کسی کو پروا ہوئی؟ پھر ہردن ہر لمحہ ہمارے چادر کو نوچ نوچ کر تار تار کر دیا کسی نے پروا کی کسی تک جوں رینگی؟ چلو ہم تو پہاڑ ٹہرے تم تو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہو تو بتاؤ کس داستان میں زندہ ہو ایسے ہزاروں داستانیں ہمارے دامن میں دفن ہیں جو صدیوں پہلے اپنے لہو سے تاریخ رقم کر گئے تم ملتے ہو ایسے کسی داستان میں؟
تم جب نورگامہ سے نکلتے وقت اپنے ہر خوشی کا زکر کرتے ہو تب ہماری آنکھیں آنسوؤں میں ڈوب جاتی ہیں کہ ہماری اولاد کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں، کس دنیا میں مگن ہیں، کن خیالوں میں گم ہیں وہ اپنی اتنی سی چھوٹی خوشی میں اتنا مگن ہے کہ اسے اپنے پہلو میں روتے ان ندیوں کی داستانیں، ان وادیوں کی ویرانی، ان چٹانوں کے زخم ان سحراؤں کی پیاس تک نظر نہیں آتی. کب سمجھوگے کب اٹھو گے کب لڑو گے نسلیں تمہاری صرف اسی نادانی میں مٹتی گئیں کہ یہ جنگ میری نہیں کسی اور کی ہے. اب کی بار میری باری نہیں آئی اگلی بار دیکھیں گے. تو سوچا ہے کبھی کہ وہ “کسی اور” ہیں کون؟ کہاں سے آیا ہے کیوں اتنا مہربان ہے کس فرشتے نے جنا ہے اسے.
اگر تمہیں نہیں معلوم تو نورگامہ سے نکلتے وقت مولہ کے طرف رخ کیا کرو جوان ساتھیوں کے ساتھ نوروز خان آج بھی تمہاری نادان سوچ پر ہنستا ہوا ملے گا. ہنجیرہ پہنچ کر ان نوجوانوں کے کھنڈر جیسے گھروں کی طرف ایک نظر کردو جنکی گرتی دیوار پھر سے آباد ہونے کے منتظر دکھائی دینگی. سوراب سے گزرتے ہوئے اس گونج کی آواز بھی سنو جس میں حئی جان و گلزار جیسے پھولوں کی قہقہوں کی آواز سنائی دیگی. قلات میری میں دفن داستانیں تمہیں سنائی دیتی ہیں کبھی؟ مستونگ میں سگار کی آہٹ سنی کبھی؟ کبھی شکور خلیل و زبیر جیسے مسکراہٹوں کی تہہ کو پرکھا تم نے؟ کتنی یادیں کتنے نام کتنی قربانی کس کس کا زکر سنو گے؟؟؟؟
کبھی شام ڈھلتے کسی چوٹی کے سرہانے آکر بیٹھو اور خاموشی سے ہمیں بھی سنو کہ قافلوں کی داستاں بیان کرتے ہوئے کیسے آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں. کبھی اپنی دنیا سے نکل آو تو دکھا دونگا کتنے جوانوں نے اپنے قدموں کے نشان چھوڑے ہیں تمارے راستے میں جو تمہیں اس منزل کا پتہ دیں گے جس سے تم بے خبر اپنی چھوٹی سی دنیا میں مگن ہو. کبھی اس آخری چوٹی پر کھڑے ہو کر ہماری نظروں سے ان وادیوں کو دیکھو کتنے افسردہ دیکھائی دیتے ہیں. کبھی خود کو انکا مان کر دیکھو کس دن کی خاطر روتے ہیں. اسکے پہلو میں رہتے ہو یہیں کھیل کر بڑے ہوتے ہو کبھی تھوڑی سی فرست نکال کر یہ بھی تو سوچو کہ یہ کیا چاہتے ہیں یہ کیا کہتے ہیں یہ کیا مانگتے ہیں شاید انہیں اپنا کچھ نہ چاہیے ہو ان کی بس چاہت اتنی ہی ہے کہ یہ بناوٹی مسکراہٹ اپنے چہرے پر نہ لایا کرو جس صبح کی دیدہ کو خون تک پلایا گیا. بنجر کو زندہ رہنے کے لئے اس صبح کا احساس کچھ اور ہی ہے.. ہماری جدائی تم سے ترک تعلق نہیں نہ ہی تم سے نفرت کا اظہار ہے ہاں بس تم سے شکایتیں بہت ہے جس راستے کو تمارے باپ دادا نے چُنا تم بھی باقی تمام سے بے غم اپنی زات تک محدود ہو…………..
پہاڑ کے ان آخری الفاظ کے بعد کافی دیر خاموشی چھائی رہی میرے بدن میں اک کپکپی سی دوڑنے لگی میری اس حالت سے بے خبر ویگن میں تمام سواری اپنے گفتگو میں مگن تھے کچھ دیر بعد جب ہوش سنبھلا تو خیالوں کا انبار طاری ہونے لگا کہ کیا واقعی میں اتنا خود غرض ہوں…… کیا واقعی اس پکار کی ضرورت تھی مجھے……. کیا واقعی میرے باپ دادا اپنے جس فرض سے بے خبر گزر گئے آج انکے نقش قدم پر چل کر میں بھی اپنے فرض سے غافل ہوں؟؟؟؟
شاید ہاں میں ہوں……..
تب ہی تو مجھے دکھائی نہیں دیتی وہ خون سے لت پت لاشیں، وہ چیخ و پکار، وہ اپنے پیاروں کو تلاش کرتی سسکیاں، وہ اپنے لخت جگر کو دیدار کرتی آنسوؤں میں ڈوبی ماں کی پرنم آنکھیں، وہ کسی باپ کا افسردہ چہرا مجھے دکھائی نہیں دیتا………….
ہان سچ ہی تو ہے میں اپنی دنیا میں مگن اپنے خوشیوں میں گم اس حقیقت سے واقف ہوکر انجان ہوں کہ میری دھرتی پر لگی آگ کی تپش مجھے محسوس تک نہیں ہوتی
ان سب کے باوجود جو ہو رہا ہے جن میں بعقول میرے میں ایک زندہ انسان ہوں تو کیا میں واقعی میں زندہ ہوں بھی یا میرے خوشی کی طرح یہ بھی بناوٹی ہیں جسے میں ایک کامیاب زندگی سمجھ رہا ہوں. اگر زندگی موت تک کا سفر ہی ہے تو کیوں وہ لوگ ابھی تک زندہ ہیں کیوں نسلوں کے ساتھ انکی داستانیں بھی دفن نہیں ہوتی………
ہاں انہیں زندہ ہی رہنا تھا…….. انہیں زندہ رہنے کا ہنر آتا تھا………. ہان زندہ وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے فنا ہونے کے راز سے واقف ہوتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وطن کے لیے مرنا ہی زندگی کو زندہ رکھنے کا نام ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل