بلوچ خواتین پر پاکستانی فورسز کا یلغار گھناؤنا عمل ہے:فری بلوچستان موومنٹ

لندن  فری بلوچستان موومنٹ نے جاری کردہ ایک بیان میں بلوچ شہداء کی یاد میں منعقدہ پروگرام کے دوران گرلز اسکول تربت پر پاکستانی فورسز کی یلغار اور بلوچ طالبات و خواتین کو زدوکوب کرنے کی گھناؤنی عمل کا شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس درندگی اور بربریت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان عرصہ دراز سے نہتے بلوچ عوام پر طاقت کا استعمال کررہا ہے۔پاکستانی فورسز بلوچ قوم پر ظلم و جبر کی انتہا کرکے پاکستان کی قبضہ گیریت کو برقرار رکھتے ہوئے خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستانی فورسز و ایف سی نے بولان کے علاقے میں آبادی پر حملہ کرکے خواتین اور بچوں کو گرفتار کیا تھا اور انہیں اغوا کرکے لاپتہ کردیا تھا۔ جن خواتین کو حال ہی رہا کیا گیا۔ اس سے پہلے کم سن بچی سمرین کو دشت اور دس سالہ بچی فاطمہ کو بلیدہ میں پاکستانی دہشتگرد فوج نے شہید کیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تربت میں نہتے خواتین جن کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں تھیں، وہ شعور و آگہی کے تحت پرامن طریقے سے بلوچ شہداء کی یاد منا رہے تھے اور اپنا سیاسی حق استعمال کرتے ہوئے مادر وطن پر جان نثار کرنے والے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کررہے تھے کہ قبضہ گیریت و نوآبادیاتی نفسیات کے عوارض میں مبتلا پاکستانی فورسز نے بوکھلاہٹ میں ان پر یلغار کرکے اسکول کو میدان جنگ بنا دیا۔ اس تعلیمی ادارے میں توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ نہتے خواتین کو ہراساں کرنے کیلئے فائرنگ کی اور خواتین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن خواتین کارکنوں کی بھرپور مزاحمت کی وجہ سے پاکستانی فوج اپنے گھناؤنی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل