بالاچ دشمن کو جینے نہیں دیگی صوبدار بلوچ

بالاچ دشمن کو جینے نہیں دیگی
صوبدار بلوچ
وطن سے عشق کیا ہوتا ہے یہ بالاچ نے جانا تھا، یہی وجہ ہے کہ سرزمین کی عشق نے اسے کشش ثقل کی طرح اپنی طرف کھینچ لیا انہوں نے پارلیمنٹ کی نرم کرسی کو ٹھوکر مار کر بلوچستان کے سنگلاخ چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا۔

پنجابی جنرل مشرف جب کوہلو گئے توانہوں نے بالاچ کو بھی اپنے تقریب میں شرکت کی دعوت دی، اس پر بالاچ نے ایک خوبصورت جواب دیا کہ ’’میں (بلوچ) گھر (بلوچستان) کا مالک ہوں اور ایک پنجابی آکر مجھے اپنے ہی گھر میں دعوت دینے کا کیا حق رکھتا ہے؟‘‘

بالاچ نوجوانوں کا رہبر تھا، انہوں نے کاغزوں پر جہد آزادی کی ترغیب نہٰن دی بلکہ خود چل کر پہاڑوں پربلوچ سرزمین، ننگ و ناموز اور بقا کی جنگ لڑی، بھوک ، پیاس، تھکن، ڈر، نامسائب حالات بالاچ کی راہ پر روئی ثابت ہوئے۔

بالاچ ایک سوچ کا نام ہے،انہوں قلیل مدت میں طویل سفر طے کیا۔ ان کی شہادت پر بابا مری آبدیدہ ہوئے اس لئے نہیں کہ انہوں نے ایک بیٹھا کھویا ہے بلکہ اس لئے کہ بالاچ جنگ آزادی کے لئے بہت کچھ کر سکتا تھا، بالاچ کا زندہ رہنا بہت ضروری تھا۔

بالاچ جسمانی طور پر بلوچ قوم سے چلا گیا لیکن ان کا نظریہ آزادی، جہد مسلسل اور بلوچ تحریک سے سچی وابسطی بلوچ نوجوانوں کی ہمیسشہ رہنمانی کرتی رہیگی۔

شہید مرتے نہیں ہیں، بالاچ ایک نوابزادہ ہونے کے باجود آج ایک عام بلوچ چرواہے اور دھکان کی طرح شہادت کے رتبے پر فائز ہوکر دشمن پر یہ ثابت کرچکا ہے کہ نواب، سردار، میر و معتبر، چرواہا اور دھکان اپنی مادر وطن کے لئے یکساں جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہیں اس راہ پر شہادت ان کے لئے ایک عظیم فریضہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل