تیرہ نومبرکو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر مناکر یکجہتی کا ثبوت دیں۔میر قادر بلوچ

کوئٹہ بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں ایف بی ایم کی جانب سے تیرہ نومبر یوم شہدائے بلوچستان منانے کی حمایت کرتے ہوئے بیرون ممالک تشریف فرماء بلوچ کمیونٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں میں یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت سے ایف بی ایم کے تیرہ نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کو خراج تحسین پیش کرنے والے پروگرامز اور تقاریب میں اپنی شرکت کو یقینی بناکر قوم دوست و وطن دوستی کا ثبوت دیا جائے تمام بلوچ پارٹیان تیرہ نومبرکو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر مناکر یکجہتی اور یکسوئی کا ثبوت دیں اور اپنے قومی شہداء کے دن کے مناسبت سے انہیں والہانہ طور پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہداء کے مشترکہ برسی تیرہ نومبر کو جوش و خروش و قومی جذبہ کے ساتھ منائیں انہوں نے کہاکہ جو شہداء کے مشترکہ برسی منانے اور شہداء کے قومی دن کے مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگرامز میں شعوری طور پر شرکت نہیں کرسکتے اور تیرہ نومبر کو یوم شہداء کے دن کے طور پر منانے کی توفیق نہیں رکھتے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ لوگ اپنے ڈیڈھ انچ کی دکانوں کو شہ دے رہے ہیں ایسے لوگ آزادی پسند اور بلوچ دوست نہیں بلکہ وہ اپنے پیدا ہ فناہ میں لگے ہوئے ہیں جو بلوچ شہداء کے قومی دن پر متفق نہیں وہ گروہی سوچ کے علمبردار ہے انہوں نے کہاکہ کی تیر ہ نومبر کے شہداء نے آزادی کے جو بیج بوئے تھے آج وہ مضبوط جڑوں کے ساتھ تناور درخت بن چکاہے اس کا تسلسل آج موجودہ آزادی کی تحریک کی شکل میں جاری ہے انہوں نے کہاکہ دنیا کہ کئی آزادی کے ممالک اپنے جملہ شہداء کے برسی کے لئے ایک دن کا انتخاب کرچکے ہیں بلوچ قوم بھی اپنے ہزاروں شہداء کی یاد منانے اور ان کے برسی کا اہتمام کرنے کے لئے 13نومبر کا انتخاب کرکے اپنی قومی شہداء کوبھر پور انداز میں جوش و خروش اور قومی عزم کے ساتھ خراج عقیدت پیش کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ جدوجہد پچھلے دہائی کا نہیں بلکہ برطانیہ کے بلوچستان میں قبضہ کے بعد سے شروع ہواہے اور اس کا تسلسل دہائی کا نہیں صدیوں کاہے صدیوں کے اس کھٹن اور پرپیچ سفر میں بلوچ قوم نے اپنے کئی نسلوں کو آزادی کے لئے قربان کیا ہے اب بھی بلوچ کا حوصلہ نہیں ٹوٹا بلوچ بہادری اور جانفشانی کے ساتھ اس سفر کا منطقی ہدف آزادی کے سوا کسی درمیانی پڑاؤ کو نہیں سمجھتی انہوں نے کہاکہ یہ جدوجہد ایک سلسلہ کو لے کر دوسرے سے جڑا ہوا ہے ہر عہد اور ہر دہائی میں جہد آزادی کو شہداء نے اپنے قربانیوں کے زریعہ تسلسل دیا ہے خان محراب خان سے لے کر نورا مینگل بابونوروز خان شہید سفرخان زرکزئی اور آج کے شہید امیر بخش سگارتک آزادی کی جدوجہد شہداء کے لہو سے تقویت پاچکی ہے انہوں نے کہا 13 نومبر یوم شہدائے بلوچستان کو تجدید عہد کا دن کہاجائے تو غلط نہ ہوگا یہ دن ہمارے قوم کے بہادرسپوتوں بزرگوں فرزندوں اور تمام قومی شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے یہ دن ان مہاہستیوں اور قومی سورماؤں کا دن ہے جو قومی مقصد کے لئے اپنی زات انا اور اپنی آخری سانس تک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قربان ہوگئے یہ دن ان نامور شہداء کے ساتھ ان گمنام ہستیوں کا دن ہے جوگمنامی کے عالم میں خاک وطن میں محو آغوش ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل