مارچ  بولان آپریشن :اہم کمانڈراُستاداسلم بلوچ زندہ و سلامت ہیں ،بی ایل اے




کوئٹہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جئیند بلوچ نے نامعلوم مقام سے  سیٹلائٹ فون کے زریعے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ تنظیم کے اہم  کمانڈر استاد اسلم بلوچ زندہ سلامت ہیں رواں سال چھ مارچ کوبولان کے علاقے  یخھو میں ہونے وا لے آپریشن میں شہید ہونے والے چار ساتھیوں میں لال خان  مری عرف چاچا ، امتیاز زہری عرف سنگت دلوش بلوچ ، محی الدین عرف سنگت نجیب  اور داد علی مری عرف مسٹر شامل تھے آپریشن کے دوران دوبدو جنگ میں استاد  اسلم بلوچ دو ساتھیوں سمیت شدید زخمی ہوئے تھے اور دشمن کے چھ ایس ایس جی  کمانڈو ہلاک و کئی زخمی ہوئے تھے سیکورٹی خدشات و علاج کے مکمل ہونے تک اس  واقعہ کے متعلق معلومات کو خفیہ رکھا گیا تاکہ زخمی ساتھیوں کے زندگیوں کو  محفوظ بنایا جاسکے۔
 ترجمان نے مزید کہاکہ شہید سنگت لال خان مری عرف چاچا نوجوانی سے ہی تحریک  سے جوڑ رہے وہ 1973 کے فوجی آپریشن میں تحریک کا حصہ تھے اس فوجی جارحیت کے  دوران بھی بولان میں سنگت چاچا نے بہت ہی گراں قدر خدمات انجام دئیے تھے  اور حالیہ تحریک کے شروعات میں سیدعلی کے نام سے مکران میں چار سال تک  بعدازاں تادم شہادت بولان میں قومی فرائض انجام دیتے رہے ۔شہید سنگت امتیاز  زہری عرف دلوش بلوچ پچھلے چھ سالوں سے تنظیم کے پلٹ فارم سے قومی خدمات  انجام دیتے آرہے تھے وہ انتہائی مخلص و محنتی ساتھی تھے علمی و نظریاتی  حوالے سے وہ ایک منفرد کردار کے مالک تھے وہ خضدار، شور کیمپ اور تاوقت  شہادت بولان میں قومی خدمات انجام دیتے رہے۔ شہیدسنگت محی الدین کرد عرف  نجیب بلوچ پچھلے تین سالوں سے تنظیم کی پلیٹ فارم سے تحریک سے جوڑے رہے وہ  کوئٹہ و گردونواح میں تنظیمی سرگرمیوں کا حصہ رہے بہادر و تیزطرار ہونے کی  وجہ سے وہ بہت ہی کم عرصے میں تنظیمی ساتھیوں میں ایک منفرد مقام حاصل  کرچکے تھے شہیدداد علی عرف مسٹر نوخیز نوجوان تھے جو پچھلے چند ماہ سے  تنظیم سے جوڑ چکے تھے وہ بہادری و محنت کے مثال تھے۔
 اسکے علاوہ گزشتہ سال مشکے میں ایک دلخراش واقعہ میں سات بلوچ نوجوانوں کو  قتل کرنے کا سرکاری دعوی سامنے آیا چند دنوں کے اندر یہ واقعہ ایک پیچیدہ  واقعہ کی صورت میں سامنے آیا جس میں اندرونی طور پر گروپ کے اندر دھوکہ دہی  اور غداری کے محرکات سامنے آئے جنگی حالات اور سخت دھوکہ دہی کے محرکات کی  وجہ سے تحقیقات میں مشکلات درپیش ہونے کی وجہ سے اس واقعہ کے متعلق  معلومات کو خفیہ رکھا گیا تا کہ اصل سازش کا پردہ فاش کیا جائے اور غداروں  کی بیج کنی کی جائے اس واقعہ کے اصل محرکات اور اس میں ملوث غداروں تک  پہنچنے تک بہت سے معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا اس وقت 13 نومبر کے مناسبت  سے صرف شہید کئے گئے نوجوانوں کے ناموں کا اعلان کیا جارہاہے جن میں شہید  گل زمان عرف روح، شہید زبیر عرف درویش،شہید صمد عرف زاہد،شہید صادق عرف  زہیر، شہید جمعہ عرف شیرا اور شہید حمید عرف اخلاق شامل ہیں۔ان تمام  ساتھیوں کے قومی خدمات کو تنظیم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان ساتھیوں  سے سازش کرنے والے غداروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ -

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل