بی ایل ایف نے گوادر میں چینی تیل کمپنی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی


                          











کوئٹہ  بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے گوادر حملے کی ذمہ  داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے علاقے کلانچ میں ڈنڈو کے مقام پر چینی  کمپنی، چائنا پٹرولیم لوگنگ (سی پی ایل ) پر حملہ کرکے دو سیکورٹی  اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ ان سے دو بندوق اور گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی  جبکہ گاڑی ڈرائیور کو غیر مسلح ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا۔ یہ کمپنی  گوادر، پسنی و گرد ونواح میں تیل و گیس کی تلاش میں مصروف ہے۔ جو قابض  پاکستان کی چین کے ساتھ نام نہاد ترقی اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی  پیک ) کا حصہ ہیں۔ بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی منصوبہ قابل قبول  نہیں اور اِن پر حملے جاری رہیں گے۔ اس منصوبے کے تحت بلوچ وسائل کی لوٹ  مار کے ساتھ یہاں لاکھوں غیر ملکیوں کو آباد کرنے اور بلوچ قوم کو اپنی ہی  سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اِن منصوبوں کے  سامنے رکاوٹ بلوچ قوم پر پاکستانی فوج روزانہ کی بنیاد پر آتش و آہن برسا  رہا ہے۔ ایک مہینے سے جاری کیچ کے علاقے دشت میں فوجی آپریشن میں ایک سو سے  زائد نہتے بلوچوں کو لاپتہ کیا گیا ہے۔ اِن آپریشنوں کا مقصد بلوچ قوم کو  نقل مکانی پر مجبور کر نا ہے، تاکہ پاکستان آسانی سے اپنی استحصامی منصوبوں  کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ فوجی آپریشن و بمباری سے پہلے ہی کئی ہزار  گھرانے بے گھر ہوکر بلوچستان کے مختلف حصوں میں در بدر ہو کر کسمپرسی کی  زندگی گزار رہے ہیں ، جو تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں ۔ اقوام  متحدہ اور مہذب ممالک پاکستان کی اِن بہیمانہ کارروائیوں کا نوٹس لیکر بلوچ  قوم کو انصاف فراہم کریں۔ گہرام بلوچ نے بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ اِن  استحصالی منصوبوں میں دشمن کا ساتھ نہ دیں اور اِن کمپنیوں کی تعمیرات سے  دور رہیں، بلوچ سرمچار اِن پر حملے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ 24 نومبر کوشام  نو بجے ضلع خضدار کے علاقے گریشہ میں ترکو کے مقام پر ریاستی مخبر نبی داد  ولد دارو کو سرمچاروں نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو مزاحمت پر سرمچاروں کی  فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ وہ بیک وقت مسلح دفاع اور نیشنل پارٹی کے ڈیتھ  اسکواڈ، جو علی حیدر کی سربراہی میں قائم ہے، کا کارندہ تھا۔اور کئی آپریشن  ، نہتے بلوچوں اور جہدکاروں کی شہادت میں ریاستی فوج کے ساتھ تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل