شہید بلوچ فرزندوں کو مقابلے میں مارنے کی ریاستی دعوی کو مسترد کرتے ہیں۔ بی۔ایس۔ایف

کوئٹہ بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں لاپتہ بلوچ فرزندوں کو شہید کرنے کے بعد انہیں مقابلے میں مارنے کی ریاستی دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ گوادر میں گزشتہ دنوں چار بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے اس سانحہ کو مقابلے کا نام دیا گیا حالانکہ جن فرزندوں کی شہادت کا واقعہ رونماہواہے وہ گزشتہ کئی سالوں سے ریاست کی تحویل میں تھے جو بلوچستان کے کسی علاقہ سے نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف علاقوں سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا تھالیکن ریاستی ادارے ان کے حراستی قتل شہادت کومقابلے کانام دیکر غلط بیانی کرکے حقائق کو جھٹلارہے ہیں ترجمان نے کہاکہ گوادر میں رونما ہونے والانسانیت سوز واقعہ اولین نہیں بلکہ ریاستی ادارے تسلسل کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کئے گئے بلوچ فرزندوں کو شدید زہنی اور جسمانی تفتیش و ازیت سے گزارنے کے بعد شہید کرکے ان کی شہادت کے واقعات کو مقابلے کا نام دیکر حقائق پر پردہ پوشی کررہے ہیں گزشتہ دنوں کا واقعہ بھی دوران حراست بلوچ فرزندوں کے شہادت کا تسلسل ہے جسے ایک دفعہ پھر جعلی مقابلے کا نام دیا گیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزند سیاسی کارکناں ریاست کے حراست میں ہیں جو سالوں اور دہائیوں سے لاپتہ کئے گے ہیں جن کے بارے میں تمام تر معلومات اور کوائف انسانی حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں کے پاس بھی موجود ہیں انسانی حقوق کے علمبردارتنظیم جو بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ ہیں لیکن ان کے کردار میں یکسانی نظر نہیں آتے اور وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے بدترین پائمالیوں کو اپنی ریکارڈ کا حصہ بناکر عملی طور پر خاموش نظر آتے ہیں اقوام متحدہ اور ان کے زیلی ادارے اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے حوالہ سے دعویدار تنظیمیں اس اہم انسانی المیہ پر زبان بندی کو ترجیح دیکر ریاست کو شہ دے رہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں ہونے والے غیر انسانی سلوک دنیا کے آنکھوں سے اوجھل نہیں اگرچہ ریاستی میڈیااس سے لاتعلق ہے لیکن سوشل میڈیا کے زریعہ عالمی برادری اس سے بے خبر نہیں اس کے باوجود انسانی حقوق کے چیمپیئن مہر بہ لب ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم ہزاروں سال سے ایک آزاد و خود مختار وحدت کے مالک رہنے کے ساتھ ساتھ سماجی قومی ثقافتی اور لسانی لحاظ سے منفرد اور الگ تشخص کی حیثیت سے اپنی وجود کو برقرار رکھاہے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ ہم مذہب ہونے کے باوجود ہمیشہ اپنی آزادی اور خود مختیاری کی دفاع کی ہے ریاست بلوچستان میں اپنی نوآبادیاتی ڈھانچہ کو مزید جوازاور بنیاد فرائم کرنے کے لئے کھلم کھلا انسانی حقوق کی دھجیاں اڑارہی ہے اقوام متحدہ کے ناخداؤں اور انسانی حقوق کے اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلوچ وطن پر جارحیت پر مبنی کاروائیوں کی کھل کر مذمت کریں اوربلوچ قوم کی آواز بنیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل