تیرہ نومبر کو بلوچستان اور بینالاقوامی سطح پر شہداے بلوچستان کا دن منایا جایئگا۔ فری بلوچستان مومنٹ

لندن فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی تحریک کو اپنی خون سے مظبوط بنانے والے جاں نثاروں اور قومی تحریک میں ثابت قدم رہنے والے قومی شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے 13نومبر کا چناوُ کیا گیا تھا اور اسی روایات کو جاری رکھتے ہوے اس سال بھی 13 نومبر کو شہدا بلوچستان اور ان کی قربانیوں کو یاد کیا جائے گا۔ 13 نومبر کا دن بلوچستان کے کسی مخصوص علاقے ، پارٹی ، گروہ یا قبیلے تک محدود نہیں۔ آج سے 177 سال قبل بلوچستان ایک آزاد اور متحدملک تھا، بلوچستان کی برطانیوی قبضے اور بلوچ سرزمین کی تقسیم سے پہلے ، بلوچستان کے سربرہ خان مہراب خان نے اسی تاریخ 13 نو مبر کو اپنے ساتھیوں سمیت برطانیوی قبضہ گیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس دن نا صرف پاکستانی مقبوضہ بلوچستان بلکہ ایرانی قبضہ گیروں کی طرف سے شہید کیے گئے تمام بلوچوں کو یاد کیا جائے گا۔ اس دن بلوچستان اور بیرون ممالک تقریبات منعقد کیے جائیں گے جہاں تمام شہدا کو ایک ہی دن ایک ہی ساتھ خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تہذیب یافتہ اور شائستہ اقوام اپنی پارٹی ،گروئی ، نظریاتی اور سوچ کی اختلافات کے باوجود قومی یگانگت اور قومیت کے جزو پر سمجھوتا نہیں کرتھیں۔ شہدا کا دن ،قومی ترانہ، اور قومی بیرک قومی یکجہتی ،اتفاق ،اتحاد اور ایک الگ قوم ہونی کی نشانیاں ہیں۔ اگر آزاد اور تہذیب یافتہ ملکوں کو دیکھا جائے تو وہاں بھی ہمیں دیکھنے کو ملے گا کہ اقوام اپنی شیہدوں کو ایک ساتھ ایک مخصوص دن کو یاد کرتے ہیں۔ اسی لیے بلوچ قوم بھی 13نومبر کو اپنے مادروطن کی خاطر اپنی زندگیاں تیاگ دینے والے تمام فرزندوں کی قربانیوں کو ایک ہی دن یاد کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کریں ۔ جاری کردہ بیان کہا گیا ہے کہ اس دن بلوچ قوم ان تمام شہیدا کو یاد کریں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کی خاطر قربان کیا اور اس دن کی مناسبت سے اپنی قوم سے عہد و پیمان کریں کہ وہ شہدا کی مشن کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے ۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل