شہید امتیاز ایک سیاسی استاد تحریر............ سیم زہری

شہید امتیاز ایک سیاسی استاد

تحریر............ سیم زہری

یہ دو ہزار چھ کی بات ہے جب بلوچ قومی تحریک وطن کے مختلف حصوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے اور دھیرے دھیرے اس کے اثرات زہری تک پہنچ رہے ہیں. زہری قبائلی سرداروں کا گڑھ ہونے کے باوجود بغاوت کے میدان میں ایک شاندار ماضی کا مسکن ہے. یہاں ہر گھر میں بچوں کو گزشتہ بغاوتوں کے متعلق قصے کہانیاں سننے کی عادت سی ہو جاتی ہے.
جب نئی تحریک ایک نئے جوش جذبے کے ساتھ ابھرنے لگی تو اس میں بھی زہری کے نوجوان بڑھ چڑھ کر شامل ہونا شروع ہوگئے. وقت کی رفتار کے ساتھ کچھ منظر عام پر آنے لگے اور کچھ گمنام اپنی جدو جہد میں مگن چلتے رہے. نئے دور کے شہدا میں پہلی بار دو ہزار دس میں چھنکا مجید زہری نے اپنی پیشانی پر دشمن کی بندوق سے نکلنے والی تیر روک کر نوجوان نسل میں ایک نیا جذبہ بیدار کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ قومیں لہو کی تیز دھار پر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہیں. اس کے بعد انجیرہ کے شہدا مسلسل دشمن کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے نام تاریخ میں رقم کرتے گئے. دو ہزار بارہ میں بزرگ شھید حاجی رمضان سلمانجو نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کاروان کو جلا بخشی. اُسی سال کے آخر میں سنگت حئی بیرگیر نے جان کا نذرانہ پیش کرکے اپنے خاندان کی قربانیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کا پیغام دیا. اسی سال کے اوائل میں شھید عرفان نے اپنے دوستوں کے ساتھ دشمن پر خود کش وار کرکے زہری کے شہدا کی یاد کو تازگی بخشی.
اپنی جاہِ پیدائش سے کوسوں دور وطن کی محبت سے سرشار یہ بہادر سپوتوں نے کبھی بھی یہ نہیں دیکھا کہ یہ میرا علاقہ نہیں، یہ گراؤنڈ میرے لیے مشکل ہو گی یا کہیں اگر مادر وطن کی چاہ میں مارا جاؤں گا تو اپنوں کو میری آخری دیدار نصیب نہیں ہوگی. ہر میدان میں بلا خوف و خطر دشمن سے نبرد آزما رہے. کٹ مرنے کے لیے سب سے آگے رہے اور قدم قدم پر دتر کی نشانی چھوڑتے گئے. آج سب کے سب وطن کے مختلف حصوں میں آسودہ خاک ہیں.
انہی شہداء میں سے ایک ہمارا سیاسی استاد امتیاز دلوش بھی ہے. دلوش کو یوں تو بچپن سے جانتا ہوں عمر میں مجھ سے کافی چھوٹا لیکن ہمت و حوصلے میں میر گھٹ کے پہاڑ جیسا مضبوط تھا. سنگت امتیاز دلوش نے مجھے اپنی قربت سے تب نوازا جب وہ ہمارے علاقے میں بی ایس او کا عہدہ دار بنا اور ہماری تربیت شروع کردی. آج میں جو کچھ بھی ہوں اس کا سہرا دلوش کو جاتا ہے. وہ ایک سنگت تھا، ایک شفیق استاد تھا، ایک ہمدرد تھا، ایک بہادر تھا. اس کی قربت میں اس کی سنگتی میں، اس کے مہر و محبت میں اپنا پن تھا. وہ ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان تھا. انسانیت سے محبت کا درس دیتا تھا. انسانیت کے لئے لڑنے مرنے کا جذبہ بانٹتا تھا. انسانیت کو مقدم سمجھتا تھا. دلوش کے ساتھ بیتے لمحوں کا ایک ایک پل میرے زھن میں نقش ہے.
سنگت دلوش اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے اوتھل یونیورسٹی کا رُخ کیا اور میں نے صرف کوئٹہ تک سفر کیا. کبھی میں زہری آتا تو وہ اوتھل میں ہوتا اور کبھی وہ آتا تو بدقسمتی سے میں موجود نہیں رہتا. پھر بھی کبھی کبھار ملاقات ہو ہی جاتی اور فون پر رابطہ رہتا. مجھے یاد نہیں کہ سنگت دلوش سے آخری ملاقات کب ہوئی لیکن اس کے منظر عام سے روپوش ہونے کے بعد میں نے انھیں اکثر ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا. کسی سے براہ راست پوچھ نہیں سکتا تھا مگر دل ہی دل میں دعا کی اے خدا میرا ہر دل عزیز سنگت میرا استاد جہاں بھی ہے اسے سلامت رکھنا.
مارچ کا مہینہ ہے ابھی چند دن ہوئے ہیں کہ موسم بہار نے پھول بچھا کر ہمارے غم ڈھانپنے کی کوشش کی ہے کہ سوشل میڈیا میں اپنی جان سے عزیز امتیاز دلوش کی لاش دیکھی جس کے چہرے کا زخم بہادری کی داستان سنانے چھلک رہا ہے اور ایک پرسکون جسم اپنی دھرتی ماں کو گلے لگائے آرام کر رہا ہے. ایسا سکون کہ پھر کبھی نہ اٹھنے کو من نہ کرے. ایسی بے رخی کہ ہم چیخ اٹھیں. دیکھتے ہی پہچان لیا ایسے جیسے ابھی چند لمحے پہلے اپنی بندوق کندھے سے لٹکا کر بچھڑ گیا تھا لیکن زہن میں بھی نہیں آیا کہ میرا سنگت اتنی جلدی ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا. ابھی تو میں اس انتظار میں تھا کہ کب دلوش خود مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے کسی پہاڑ کی اوٹ سے آواز دے گا اور اپنے ساتھ لے کر جائے گا. ابھی تو ہم اس آس پر بیٹھے ہوئے تھے کہ دلوش کی تعلیمات سے بہرہ مند ہونگے. وہ لیکچر دے رہا ہو گا اور ہم ایک سرکل بنائے اس کے ارد گرد بیٹھے ہونگے. زہری کے پہاڑ روزانہ خود کو سینگار کرکے سج دھج کے اپنی بانہیں کھولے ہوئے تھے کہ کب دلوش آئے گا اور ہمیں شرف بخشے گا. روز سورج ہناری کی اوٹ سے نمودار ہوتے ہوئے دیزیری کے اوپر سے گزرتے وقت اپنی کرنیں دھیما کرتا کہ کہیں دلوش کو ناگوار نہ گزرے. ہر روز شام کو بدوکشت میں غروب ہوتے وقت ایک لمحے کے لیے پلٹ کر دیکھتا کہ شاید دلوش اور اس کے لشکر کی ایک جھلک دیکھ سکے.
دلوش سنگت آپ تھے تو مشک بیل کے کاشُم دیگر کے وقت تجھے دیکھ کر خوشی سے جھولا جھولتے. آپ کے انتظار میں ہر سال بادام نے سفید پھولوں کا ہار سجا کر رکھا. سرماڑی نے تیرے آنے کی خوشی میں پھولوں کی فرش بچھائی. لیکن آج سارا منظر نوحہ کناں ہے. بلبل نے آج اپنے آنسوؤں پر اختیار کھو دیا ہے. مشک بیل سے بہنے والا چشمہ آج خود پیاس سے نڈھال ہے. پیمازی کے پہاڑ آج تیری جدائی میں افسردہ ہیں.
سنگت دلوش تُو آج بھی زندہ ہے صرف ہم بچھڑے ہیں. آج ہم مل نہیں سکتے. آج جی بھر کے کچاری نہیں کر سکتے. آج ہاتھ میں ہاتھ ڈالے زہری بازار میں چہل قدمی نہیں کر سکتے لیکن میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے خیالات آپ کی تعلیمات آپ کے افکار و نظریات، آپ کے اخلاقیات مہر و وفا سنگتی لمحہ بہ لمحہ قدم بہ قدم ہماری رہنمائی کر رہے ہیں. آپ نے جنگی میدان میں کیا کیا کارنامے سر انجام دیئے مجھ سے بہتر آپ کے خوش قسمت دوست بتا سکتے ہیں جو اتنے سال آپ سے قریب رہے یا پھر زخموں سے چور آپ کا دشمن بتا سکتا. ہمیں تم پر ناز ہے ہمیں تم پر فخر ہے کہ تم بڑھے. تم لڑے. تم مادر وطن پر مر مٹے لیکن منہ پیچھے نہیں موڑا. آپ نے میدان نہیں چھوڑا. آپ ثابت قدم رہے. تمھاری قربانی سے آزادی کی کونپلیں پھوٹینگے. نوجوان نسل تمھارے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمھارا خواب شرمندہ تعبیر کرے گی. زہری کی سرزمین کو آپ نے شان عطا کی. زہری کی فضا کو آپ نے معطر کر دیا. زہری کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دی.
شھید امتیاز جان آنے والی نسلیں تمھاری داستان کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھ کر اس راستے کا راہی بنے گی. جس ارمان کو پورا کرنے کے لیے آپ نے جان دی وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہو گا.
نما بدل آجوئی..........

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل