بھارتی فائرنگ سے 7پاکستانی فوجی ہلاک

اسلام  آباد پاکستان کے دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی  فائرنگ سے سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر اسلام آباد میں تعینات انڈین  ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔پاکستانی فوج  کے مطابق کشمیر کے متنازع علاقے میں لائن آف کنٹرول کے بھمبر سیکٹر میں  انڈیا کی بلااشتعال فائرنگ میں سات پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔پاکستانی  دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ  سیکریٹری خارجہ نے انڈین ہائی کمشنر گوتم بمباوالا سے فوجیوں کی ہلاکت پر  احتجاج کیا اور اس واقعے سے متعلق ان کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا۔ہلاک ہونے  والے فوجیوں کی نماز جنازہ جہلم میں ادا کر دی گئی ہے جس میں بّری فوج کے  سربراہ جنرل راحیل شریف اور دیگر اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی اور بعد میں  جنرل راحیل کو لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ بھی دی گئی۔اس  سے پہلے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے پیر کو جاری  ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول  پر رات گئے فائرنگ کی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے  انڈین فوج کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے ٹویٹ میں  انڈیا کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی۔ دفتر خارجہ نے انڈین فوج  کی طرف سے کی گئی کارروائی کا جواب دینے کی تصدیق کی۔وزیر اعظم نواز شریف  نے لائن آف کنٹرول پر جانی نقصان پر شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے  کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کی تمام صلاحیت رکھتے ہیں۔نواز شریف نے  الزام عائد کیا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھی  ہوئی ہیں تاکہ کشمیر میں جاری بدامنی سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے۔سرکاری  ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈین  فورسز لائن آف کنٹرول پر بھاری اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا  تھا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سات لاکھ سے زیادہ انڈین سکیورٹی  فورسز کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہا ہے اور اس سے دنیا کی  توجہ ہٹانے کے لیے وہ ایل او سی پر فائرنگ کرتا ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ  اس سال اب تک انڈیا کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 178 خلاف  ورزیوں میں 19 شہری ہلاک اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔پاکستان اور انڈیا کے  درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں  بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت سے ہوا۔انڈیا کی جانب سے  لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی دفتر  خارجہ نے کئی بار انڈیا کے سفارتکاروں کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔پاکستان  کے وزیراعظم نوازشریف نے بھی کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول  اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ان کا  منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔جہاں ایک طرف دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے  درمیان ایل او سی اور ورکن باؤنڈری پر جھڑپیں ہو رہی ہیں تو وہیں سفارتی  محاذ بھی گرم ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو جاسوسی کے  الزامات کے تحت ملک بدر کر رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل