بی ایل اے نے ریلوے ٹریک پر حملے کی ذمہ داری کرلی

کوئٹہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جئیند بلوچ نے کہا کہ خاران شہر میں فورسزکے ہیڈ کوارٹر پر حملے اور بولان کے علاقے پیشی میں کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی ریلوئے ٹریک پر نصب دھماکہ خیز مواد سے بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیم کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں یہ با ت انہوں نے جمعہ کی شب نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے زریعے این این آئی کو بتائی ترجمان نے کہا کہ ہمارے سر مچاروں نے خاران میں فورسز کے کیمپ اور ہیڈ کواٹر پر مختلف اطراف سے راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے شدت کے ساتھ حملہ کیا جس سے فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کیمپ میں حملے کے دوران آگ لگ جانے سے فورسز کو مزید جانی و مالی نقصان ہوا ترجمان نے کہا ہم خاران کے لوگوں کوایک مرتبہ پھر تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ فورسز کی دھمکیوں کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوئے انکے تمام پروگراموں سے مکمل طور پر دور رہیں خصوصاً اساتذہ حضرات اور باذار پنچاہیت جو کہ خوف اور لالچ کے بنا پر شاہ سے ذیادہ شاہ کا وفادار بن کر ریاستی منفی پروپگنڈہ کو عوام میں پھیلا رہے ہیں ایسے عناصر پر ہماری شروع دن سے مکمل نظر ہے کہ کون خوف اور نادانی میں اور کون دانستہ طور پرفورسزکے ذرخرید کاسہ لیس بن کر ریاستی ایجنڈہ کی تکمیل کررہے ہیں۔ دوسری جانب فورسز اپنے مقامی ایجنٹوں کی پیدا کردہ مصنوعی ذمینوں اور دیگر جھگڑوں و تنازعات کے حل وصلح کرنے کے نام پر سادہ لوح عوام کی خیرخواہ بننے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں دراصل ان تمام مسائل وتنازعات کو پیدا کرنے والے فورسز کے اپنے زرخرید ایجنٹ ہیں جو انتہائی مکاری و چالاکی سے لوگوں کوگمراہ کررہے ہیں جو ایک ناقابل رحم عمل ہے۔ہم ایک بار پھر عوام کو سختی سے تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ فورسز کی کسی بھی سازش اور پروگرام کا حصہ نہ بنیں کیونکہ ہمارے سرمچار کسی بھی وقت کسی بھی طریقے سے فورسز پر حملہ آور ہونگے۔ اسکے علاوہ آج بلوچ سرمچاروں نے بولان کے علاقے پیشی میں کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی ریلوئے ٹریک پر بم نصب کیا تھا جسے ناکارہ بنانے کے لئے بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیم جب وہاں پہنچی تو سرمچاروں نے اس ٹیم کو نشانہ بنایاجس کی ذمہ داری بی ایل اے قبول کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل