کچھ یادیں انمول لوگوں کے ساتھ

حمل بلوچ

کچھ چیزوں پر انسان سوچتا ہے مگر یقین ایک فیصد بھی نہیں ہوتا ھے کچھ چیزوں کو انسان دیکھتا ھے اپنے انکھوں سے مگر مستقبل میں کیا ہوگا جو کہ ہر حال میں ہونا ھے پھر بھی دل نہیں مانتا … ہنستے مسکراتے سنجیدے علم و شعور سے لیس ایسے نوجوان چہرے جنہیں انسان دیکھے تو دیکھتے ہی رہ جائے روز ہنسنا مسکرانا اپنے کاموں میں مگن دشمن کو ضرب لگانے کا جزبہ مزاق بلند چوٹیوں پر گشت لگانا گھاٹ دینا کیمپ کے مال مویشیوں کا دیکھ بھال مہمانوں کی خاطر داری کس کس چیز کا ذکر کروں ایسے لوگ کیسے بچھڑ سکتے ہیں؟ ؟؟ دماغ کو کئی بار زور دیتا ہوں جنگ ھے دشمن ھے مار سکتا ھے دوست بھی ایسے کہ پیچھے ہٹنے والے بھی نہیں پھر بھی کھبی کھبار ان کی یادیں کچھ زیادہ تنگ کرتے ہیں تو دل کو تسلی دیتا ہوں کہ دوستوں کی کوئی پالیسی ہوگی سب سلامت ہیں (خدا کرے ایسا ہی ہو) ..
وہ دن کاش زندگی میں نہیں آتا جب کسی دوست نے بتایا کہ امیر الملک جمال جان سات اپریل کے آپریشن میں شہید ہوا ھے پتہ نہیں مجھ میں عجیب کیفیت طاری ہو گیا وہ نوجوان گھنے بال خوبصورت مسکان گول اور پُر کشش آنکھیں پُر مہر آواز میری نظروں کے سامنے کھڑا ہو گیا میں جہاں گیا وہ میری آنکھوں کہ سامنے ہنستے مسکراتے مجھے چھیڑتے ہوئے ھاھاھاھا حمل تم رو رئے ہو دوستوں کی جدائی میں انقلابی نہیں روتے مگر میں کیا کرتا وہ ایک ایسا انسان جسکو میں اتنا جانتا تھا کہ جمال بی ایل اے کا سنگت ہے پھر بھی دل میں اتُر گیا تھا مجھے کہاں پتہ تھا کہ یہ روز پریس کلب کے سامنے جو سلوگن لگایا جاتا ھے کہ قلندرانی فیملی کو بازیاب کرو یہ اسی جمال کی فیملی ھے میں تو سمجھتا تھا کہ قلندرانی کسی شخص کا نام ہے اور اس کی کوئی فیملی ہے …. جب جمال ہم سے جسمانی طور پر جدا ہوئے تو کئی دفعہ قلم اُٹھایا کہ کچھ یاداشتوں کو قلم بند کروں دوسروں کو سناؤں وہ کیسا انسان تھا مگر ڈر لگتا تھا سنگت نود بندگ جیسا کالم نگار جب جمال کے بارے میں لکھتا ھے تو ڈرتا ھے کہیں کوئی نہ انصافی نہیں ہو جائے تو پھر ہم جیسوں کے لیئے بہت بڑی بات تھی میں بار بار کچھ لکھ کر پاڑ دیتا تھا… پھر کچھ وقت گزر گئے میں معمول کی طرح فیس بک میں لگا ہوا تھا کہ دلجان نامی ایک شخص کا آرٹیکل نظروں سے گزر گیا جس میں عرفان کے متعلق بتایا گیا تھا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں عرفان کا نام دیکھ کر میرا گمان شہید صدام پر گیا پھر بھی دل ماننے کو تیار نہیں تھا آخر کار وہ دن بھی آگیا بی ایل نے بیان دیا کہ سنگت عرفان نے خود کو بارود سے اُڑا دیا کاش میں اپنے اُس لمحے کے احساسات کو لکھ سکتا بیان کر سکتا کہ میری حالت کیسی ہوگئی تھی دماغ گوم رہا تھا سر میں چکر آ رہے تھے دل کے دھڑکنوں کی رفتار بڑھ گئی تھی عجیب حالت ھوئی تھی وہ سادہ ہنس مُکھ لڑکا عمر میں سب سے چھوٹا کیمپ میں دوست اُسے دوستی میں کہی ناموں سے پُکارتے تھے اب اتنا بڑا ہو گیا تھا کہ فدائیں بریگیڈز میں شامل ہو گیا… وقت نے پھر اپنی رفتار بڑھا دی میں ایسے ہی وقت کے پیچھے کسی گھنٹی کی مانند لٹک کر چلتا گیا… ایک دفعہ بولان میں آپریشن ہوئی. ہر کوئی پریشان تھا دوست کیمپین چلا رہے تھے کہ بلوچ زالبول اغواہ ہوئے ہیں پھر میڈیا میں ایف سی کے بیان کی باز گشت ہوئی کہ کئی دہشت گرد مارے گئے ہیں استاد اسلم کو بھی مار دیا پریشانی کی شدت اور بڑھ گئی پھر دوستوں نے استاد کی شہادت کی تردید کردی مگر دشمنوں نے شہید ہونے والے دوستوں کی تصاویر شائع کر دئیے سنگت محی الدین کو میں پہچان نہیں سکا جو کہ کافی عرصہ گزرا تھا ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر سنگت دلوش امتیاز کو میں نے پہلی نظر میں پہچان لیا کیسے نہیں پیچانتا ایک ایسا شخص جو کیمپ میں ہر آنے والے کو اکیلے چھوڑتا ہی نہیں فلانی آؤ پھل لکڑیاں لانے کے لیئے چلتے ہیں پھر لکڑی خود جمع کرتا بس سکھاتا کہ آپریشن کہ وقت کیا کرنا چاہیے علاقے کے حالات کیسے کنٹرول کرنے ہیں دشمن پر کس وقت حملہ کرنا ھے دلوش امتیاز ایک پورا استاد تھا علم سے لیس ایک لاہبریری تھا. بلکہ ہم مزاق میں اسے گوگل سرچ انجن کہہ کر پکارتے تھے. دلوش کی علم و زانت کی تعریف کرنے کا میں جُرت نہیں کرتا کیوں کہ مجھے پتہ ہے میں نہیں کر سکتا….. بس اتنا کہہ سکتا ہوں وہ ایک مکمل انسان تھا.
کچھ ایسے انمول لمحے ان لوگوں کے ساتھ گزرے ہیں کہ میں ان کو شیئر نہیں کروں شاید قبر میں میر پاؤں سیدھا نہیں ہو جائیں….
کیمپ میں آئے مجھے دو دن ہوگئے تھے امیر الملک مجھ سے اتنا فری ہو گیا تھا جیسے مجھے بچپن سے جانتا ھو ہر بات میں مزاق کھبی کھبی میرے فضول سوالوں پر سنجیدگی سے غور کرنا اور جواب دینا مجھے کافی خوشی رہی تھی اور وہ لمحہ میں شاید کھبی بھول نہیں پاؤں جب میں چائے پی رہا تھا تو اس نے میرا پیالے سے دوگھونٹ پی کر واپس کردیا اور کہا ایک کپ میں پینے سے پیار بڑھتا ھے.. پھر شام کے وقت ہم بیھٹے ہوئے تھے کہ ایک لاگر بدن لڑکا میرے قریب آگیا مجھ سے حال احوال کیا اور مجھے کہا رات کو اُوپر والے مورچے پر میرا گھاٹ ھے اگر تھک نہیں گئے ہو تو کماش سے اجازت لے کر تمھیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا وہاں پہ گپ شپ کریں گے تم سے کچھ حال احوال کرنا ھے … یہ امتیاز دلوش تھا میں نے بھی کہا کہ میں تیار ہوں پھر چاروں طرف اندھیرا چھا گیا تھا ایک انجان علاقہ کچھ انجان لوگ جن سے زندگی میں کھبی نہیں ملا تھا ایک پہاڑی کی چوٹی پر کچھ پھتروں اور لکڑیوں سے سر چھپایا تھا دلوش سے ڈھیر ساری باتیں ہوئیں پھر دلوش نے کہا کہ تنظیمی اصولوں کے مطابق ہم رات کو بانٹیں گے میں نے کہا کہ آپ سوجاؤ آدھی رات تک میں بیھٹوں گا….. پھر میں بیھٹا ہوا تھا دلوش سو رہا تھا سردی کی شدت بڑھ رہی تھی میں نے کمبل اوڑا ہوا تھا مشرق کی پہاڑوں کے اوپر آدھا چاند اُبھر رہا تھا تب جا کے مجھے یقین ہوگیا کہ یہاں اس سر زمین پر لوگ کیوں مر مٹنے کو تیار ہیں حق نواز نے انہیں پہاڑوں میں دشمن کے بندوق کی گولیوں کو سینے میں کیوں پیوست کیا تھا پھر ایک دن صبح سویرے سب دوست آگ کے ارگرد بیھٹے ہوئے تھے چائے پی رہے تھے شہید دلوش اور شہید عرفان نیٹورک پر جارہے تھے میں نے شہید جمال سے کہا مجھے نیٹورک جانا ھے وشین کے ساتھ تو جمال جان نے کہا کیا کرو نیٹورک جاکر بہت دور ھے میں نے مزاقیہ لہجے میں کہا کہ گرل فرینڈ پریشان ہو جائیگی شہید جمال جان مجھ پر زور زور سے ہنسنے لگا اور کہا یہاں لوگوں کی شادیاں رُکی ہوئی ہیں تم گرل فرینڈ کی فکر کر رہے ہو
خیر پھر اجازت دے دی ہم نکل گئے میں شہید امتیاز شہید صدام اور دو اور دوست تھے دوستوں میں اس وقت شہید دلوش ہمارا سینئر تھا ہمیں نصحیت کر رہاتھا کہ پانی سپاہیوں کی طرح استعمال کرو راستہ دور ھے اپنے موبائل سے میر احمد کا کوئی گانا چالو کرکے ہم سب سے آگے چلتا رہا ہم پیچھے پیچھے جار ہے تھے مسلسل تین گھنٹے کے سفر کے بعد ہم ایک پہاڑی کی چوٹی پر پہنچ چکے تھے وہاں نیٹورک کافی کمزور تھی مگر حال احوال کی حد تک تھی. شہید صدام نے ایک درخت کے تنے سے بندوق ٹکا کر درخت سے ٹیک لگائے فون پر مصروف ہوگیا شہید امتیاز نے کہا جلدی جلدی اپنے فون وغیرہ کرو زیادہ دیر تک یہاں بیھٹنا صحیح نہیں ھے ایک دوست نے ہنستے ہوئے کہا کہ آج کے سفر کو میں ڈائری میں لکھوں گا کہ ہم نے کتنا پیدل سفر کیا ایک کین پانی تین گنٹھے کا مسلسل سفر. اس پر امتیاز نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عنوان کچھ اس طرح ہونا چاہیے کہ کمانڈر دلوش کے ساتھ ایک لمبا پیدل سفر
پھر ہم سب ہنسنے لگے تھوڑی دیر بعد ہم نیٹورک سے فارغ ہو گئے تو شہید صدام عرف عرفان نے کہا کہ میں پہاڑی کی اُس طرف اُتر کر چشمے سے پانی بھر کر آپ لوگوں کی طرف دوسرے راستے سے آہوں گا دوستوں کو پیاس لگی ہے تو میں نے کہا میں عرفان کے ساتھ جاؤں گا مگر امتیاز نے منع کر دیا کہ کماش نے آپ لوگوں کی ذمہداری مجھے دی ہے راستہ خطرناک ھے تم اُتر نہیں سکتے کہیں گر جاؤ گے مجھے کماش کو جواب دینا پڑے گا مگر میں نے ضد کر لی کہ میں پہاڑی کا رہنے والا پوری زندگی پہاڑوں میں گزری ھے میں جاوں گا پھر دلوش اردو میں نام دل وش کو تھوڑ کر دیکھا جائے تو دل خوش بن جائے گا انسان جس کا دل خوش ہو وہ دوسروں کو ناراض کیسے کر سکتا ھے … دلوش نے نہ چاھتے ہوئے بھی مجبور ہو کر مجھے اجازت دی اور کافی بے چین محسوس کرنے لگا مگر میں کون تھا جو احساس کو سمجھ سکتا میں اور عرفان پہاڑی سے اُترنے لگے عرفان مجھے بتاتا رہا کونسا پاؤں کدھر رکھنا پہاڑی سے اُتر تے وقت اپنے وزن کیسے بیلنس کرنا ھے ہم آہستہ آہستہ پہاڑی سے گہری کھائی میں اُتر گئے جور کے درختوں کے سائے میں کچھ چکور نظر آئے ہمیں دیکھ اُڑ گئے چاروں طرف گُون کے بڑے بڑے درخت تھے گُون بھی ابھی پک گئے جس کی وجہ سے ہوا میں گُون کی خوشبو اچھی طرح سے محسوس ہو رہی تھی سب کچھ عجیب لگ رہا تھا جیسے پورا وجود ہوا میں بکھر رہا تھا میں بچپن کے خیالوں میں گم ہورہا تھا کہ عرفان نے کہا حمل تمھیں جہاں کہیں بھی جور کے درخت نظر آئے سمجھ لو پانی نزدیک ھے پھر ہم نے تھوڑا سفر کیا ہم چشمے تک پہنچ گئے میں نے پانی کا چشمہ دیکھا میری جان میں جان آگئی مگر عرفان نے مجھے پینے سے منع کردیا ایک دفعہ چشمے کے سارے پانی باہر نکال دیئے پھر مجھے کہا سائے میں بیٹھتے ہیں تاکہ پانی بھی صاف ہو جائیگی اور تھوڑا آرام بھی ہوگا اس طرح جلدی پانی پینے سے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور تھکاوٹ بڑھ جاتی ہے….
تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم نے پانی کے کین بھر دئیے پانی پی کر نکل گئے گوُن کے درختوں کو دیکھ کر عرفان نے کہا کہ گُون پک چُکے ہیں دوستوں کے لیئے لے جائیں گے عرفان درخت پر چھڑ گیا مجھے کہا چادر پھیلاؤ میں اوپر سے گُون تھوڑتا ہوں تمھارے کپڑوں پر شیرے لگیں گے میں چادر اتارا تو دیکھا میرا بندوق غاہب تھا میں یکدم چھونک گیا اور عرفان سے کہا میں اپنا بندوق پانی پر بھول گیا ہوں تو عرفان نے کہا جلدی جاؤ لے آؤ میں نے بھاگنا شروع کر دیا عجیب خیالات دماغ میں آرہے تھے پتہ نہیں بندوق وہاں ہوگی کہ نہیں اگر نہیں ہوا تو کماش کو کیا جواب دوں کیا ہوگا جب میں پانی پر پہنچ گیا تو بندوق وہاں پہ رکھا ہوا تھا میں نے بندوق اُٹھایا جلدی جلدی واپس آگیا عرفان نے گُون چادر میں باندھ دئیے تھے اور مجھے دیکھ کر زور زور سے ہسنے لگا اور کہا چلو ابھی تم نے دشمن کو تباہ کر دیا سزا کے لئیے تیار رہو …. میں خاموش رہا پھر ہم امتیاز والوں کے پاس پہنچ گئے میں نے سوچا امتیاز سے ذکر کرے گا مگر سنگت امتیاز کو اپنے گُون دیکھا کر کہنے لگا دیکھو میں اور حمل نے آپ لوگوں کے لئیے پانی کے ساتھ گُون بھی لایا ھے سنگت دلوش نے بھی گُون تھوڑے تھے ہم وہاں سے نکل گئے ابھی ہمارا موضوع گُون تھا کیونکہ میرے اور عرفان کے توڑے ہوئے گُون تھوڑا کٹے تھے دلوش آہستہ آہستہ آگے جارہا تھا ہمیں ڈنٹ رہا تھا کہ تم لوگوں نے کٹے گُون توڑے ہیں اسکے ڈانٹنے کا مقصد یہ تھا کہ جب تمہیں معلوم تھا کہ یہ کٹے ہیں تو توڑنا غلط بات ہیں
ایک دوست کافی تھک گیا تھا شہری چمپل پہنے کی وجہ سے اس کے پاؤں زخمی تھے سنگت دلوش نے اُس کا بندوق بھی اُٹھایا ہوا تھا پھر ہم ادھر کیمپ پہنچ گئے شام کے وقت سارے دوست ہمیں حال حوال کرنے کے لیئے آگئے
میں انتظار میں تھا دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ بندوق کو بھولنے کے سزا کوئی بڑی سزا ہوگی پھر بھی فوجی اصولوں کے تحت مجھے قبول کرنے ہونگے پھر کئی دن گزر گئے میں سوچتا رہا عرفان نے کیا سوچ کر دوستوں سے اس واقعہ کو چھپایا تھا شاید میرے چہرے کہ تاثرات سے سمجھ گیا تھا کہ میں کیمپ میں اس بات کا ذکر نہ کروں
حمل مجھے غلط سمجھے گا یا شاید یہ سوچا ہوگا نیا دوست ہے فوجی اصولوں سے واقف نہیں ھے یا دوستوں نے خود درگزر کیا تھا اللہ و عالم مجھے آج تک کسی نے اُس واقعہ کے بارے میں نہیں پوچھا …..
پتہ نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں کہاں تک پہنچ چکاہوں دل کہتا ھے کہ اُن سب باتوں کو اپنے قلم کے زیر لاؤں جوکہ اُن عظیم لوگوں سے سنے تھے ہر لمحے کو قلم بند کروں جو اُن کے ساتھ گزرا ھے عرفان جمال دلوش شیخ شیخو( جاوید ) کے ساتھ آخری رات سنگر میں فروری کا مہینہ تھا قلات کی سردی اپنی انتہا کو تھی چونکہ وہاں کمبل بس دو تھے ایک دوست گھاٹ دیتا تھا اور دو سوتے تھے تو میں وہاں مہمان تھا جب رات تین بجے میں حاجت کے لیئے اُٹھا تو اتنی سردی تھی کہ میں کمبل سے نکل نہیں پارہا تھا بڑی مصیبت سے اُٹھ کر موباہل کا لاہٹ لگایا تاکہ چھوٹے جُگ کی دروازے سے نکل سکوں تو دیکھا جاوید بغیر کسی کمبل کے پٹے پرانے جوتے پہنا ہوا ٹوپی سر پر گہری نیند میں سو رہا تھا میں حیران ہوگیا اتنی سردی میں بغیر کمبل انسان کیسے سو سکتا ھے اب میں سمجھ گیا تھا کہ سر زمین کے عشق میں انسان کچھ بھی کر سکتا ھے ایک زخمی ماں کی گود میں بلا کس کو نیند نہیں آئیگی.
کہاں کہاں تک جاؤں کون کونسا لمحہ بیان کروں سب زمین کے عاشق تھے آج بھی جمال جان کی آئی ڈی کو کھول کر پرانے میسجز دیکھتا ہوں میسج سنڈ کرتا ہوں مگر کوئی جواب نہیں آتا دلوش کا دیا ہوا بُک سنگسار. دلوش کی یادوں سے روز مجھے سنگسار کرتی ھے…. دُرین کی مسکراتی تصویروں میں عرفان کی مسکراہٹ ملتی ھے اور سنگر کو سمبالے جاوید آج بھی وطن کی دفاع میں کھڑا ملتا ہے …..
سب بچھڑ گئے مگر انکی یادیں انکے سپنے انکے نظریے رہتی دنیا تک ہمارے رگوں میں دوڑتی رہیگی……..
انکا چُنا ہوا مقصد تھاما ہوا بندوق کا سفر کالی رات کو مٹا کر روشن صبح تک ساتھ چلے گی.

اے چونیں بنا یے بے مہراں بندات کتء
نازاکیں منی ہمرا آں بران آں یک یک ء

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل