زمین زادہ __ شہید امتیاز زہری تحریر عالیان یوسف

زمین زادہ __ شہید امتیاز زہری
تحریر عالیان یوسف

قبائلی معاشرے میں جنم لینے والے افراد عموماً ایک ہی طرح کے عادات و خصلت رکھتے ہیں، ایک ہی طرح سوچتے ہیں موسم اور آب و ہوا کی تھوڑی سی تبدیلی اورتھوڑے سے فرق کے ساتھ ان کے رویوں ،اٹھنا بیٹھنا پسند وناپسند سب کچھ ایک،شادی ،غم، جرگہ فیصلہ ہر جگہ یکساں طور طریقے، بلوچی احوال بھی کریں گے تو سردار کے سر کی سلامتی سے بات شروع کر کے شہزادے کی شرارتوں تک لے جائیں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو عوام ہیں انکی زندگیوں پر ان کے سرداروں اور معتبروں کے اثرات ہیں،یہ ہمارا نیم قبائلی سماج ہے لیکن اب اس میں تبدیلی آرہی ہے اب اس کی زنجیروں کو زنگ لگنا شروع ہو گئی ہے، کڑیاں ٹوٹنے کے قریب ہیں، ظاہر ہے سماجی تبدیلی ارتقائی منازل کو طے کر رہی ہے اور خوش قسمتی ہے کہ دوسرے تمام اقوام کی طرح بلوچ سماج بھی بانجھ نہیں ہے اور نہ یہ جمود کا شکار ہے،گو کہ عمل ارتقاء اپنے مخصوص انداز میں محو سفر ہے اور چیزوں کو سمجھنے اور اٹھا کر انھیں آگے لے جانے میں بطور قوم ہمارا کوئی خاص ہنر نہیں، لیکن اس کے باوجود جب میں یہ کہنا چارہا ہوں کہ کڑیوں کو زنگ لگنا شروع ہو گیا ہے اسکی وجہ یہ بیان کروں کہ سماج کو بدلنے والے ہیروز روایتی اور صدیوں سے مخصوص فارمولے کو رد کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جس طرح میں نے پہلے کہا کہ قبائلی سماج میں عوام کی زندگی پر اثرانداز ہونے والے ان کے سردار ہی ان کے ہیروز ہوتے ہیں، لیکن آج وہ یعنی سردار heroic qualities سے محروم ہو چکے ہیں، زمین اور جنم بھومی سے محبت میں کمی اپنے لوگوں یعنی زمین زادوں سے دوری اور مصنوعی کروفرنیان کمزور اور آسانی سے پٹنے والے مہروں کو اور زیادہ قابل شکست بنادیا ہے، اب ان کی جگہ عام بلوچ نوجوان لے رہے ہیں، وہ آگے آرہے ہیں، بلا غرض وطمع جاگیروں کو وسعت اور خاندان کا طرہ اونچا کرنے کے بجائے آزادی،انقلاب اور بلوچ قوم کیلئے بہتر سماج کی تشکیل اور دوسرے اقوام سے اپنے قوم کو ہمقدم کرنا ہی ان کا مطمع نظر ہے،
شہید امتیاز زہری انھی نوجوانوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے قبائلی مصنوعی کروفر کو رد کردیا ایک قبائلی سردار کے گھر میں جنم لینے اور ایک حد تک شہزادگی کا طرہ اور دستار ورثہ میں پانے کے باوجود انہوں نے پانی کی مخالف سمت میں تیرنے کیلئے اپنے لا غر بازوؤں پر بھروسہ کیا، نسبتاً کم قبائلی اثر رسوخ رکھنے کے باوجود اگر اس کے شعور پر قبائلی کروفر کا غلبہ ہوتا تو وہ زمین زادہ ہونے کے کمزور آپشن کی بجائے شہزادوں کے زنگ آلود زنجیر کا ایک کڑی بن سکتا تھا، میں اسے کسی اور انقلابی سے تشبیع نہیں دوں گا، تحریر کی خوبصورتی کیلئے میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہمارے دور کاچہ گویرا تھا،، چے کی جسد بھی بندوق برداروں کے نرغے میں رہی، امتیاز زہری بھی اپنے گھرسے د ور وطن کے کسی دوسرے محاز پر بلوچ سماج کی طرح کہیں خشک اور کہیں سبز جھاڑیوں کے درمیان دشمنوں کے نرغے میں پڑی رہی،، لیکن میں اسے چے نہیں کہوں گا اور اگر کہہ دوں تو اپنے زمین زادے سے، اسکی شخصیت سے بے انصافی ہوگی، وہ دلوش ہی بہت خوبصورت ہے، وہ امتیاز ہی الگ تھلگ ہے، اس نے ظاہری خوبصورت پر کبھی توجہ ہی نہیں دی، زمین زادوں کے خوبصورتی کو کسی اور طریقے سے ناپا جاسکتا ہے ان میں heroic qualities کو جسمانی خوبصورتی سے نہ دیکھا جائے، دلوش کے جسد کے قریب سے ایک مڑی تڑی سی ایک ٹوتھ برش اور ایک ٹوٹا ہوا چھوٹا جیب سائز آہینے کے سوا کچھ بھی برآمد نہیں ہوا، کیا یہ قد آدم آہینے میں خود کو دیکھ کر اپنی شہزادگی پر نازاں لوگوں پرایک زمین زادے کا آخری طنز نہیں ہے امتیاز جو معاشی پیچیدگی اور دنیاوی لین دین پر عبور رکھتا تھا جو اکنامکس کو بالادست اور زیردست کے درمیان ایک مفاداتی رشتہ سمجھتے ہوئے ہم جیسے معاشی اصولوں سے نابلد لوگوں کو ان کی اپنی بولی میں مقامی مثال دیکر سمجھا سکتا تھا، یہ اس کا معاشی ورثہ ہے یہ ٹوتھ برش اور آئینہ اسکا اثاثہ ہے، پھر اس کو میں کیسے کسی اور انقلابی سے تشبیع دینے کا سوچوں، وہ امتیاز دلوش ہی بہت خوبصورت ہے،
ٹھیک اسی وقت جب مشک دیزیری(زہری)کا یہ کامریڈ بلوچ گل زمین پر اپنے خون کے قطرے گرا چکا تھا، روح پرواز کر چکی تھی،
اسی وقت زہری قبیلے کا سردار ماتمی لباس میں ملبوس قابضین کے جلوس کے ہمراہ اڑان کے بعد لونی میں کروفر سے اترتے ہیں،سیاہ لباس سیاہ گاگلز، سیاہ جوتے، سر تا پیر ماتم، زمین زادوں سے شکست کا ماتم، قومی عصبیت سے تہی دامنی کا ماتم، بلوچیت سے راہ فرار کا ماتم،ظاہری کروفر میں چھپے کھوکھلے پن کا ماتم، ماتم ہی ماتم،سیاہ گاگلز آنکھوں کوتو چھپا سکتے ہیں، لیکن شرمندگی جب پسینے کے بوندوں کی صورت ٹپک رہی ہو تو اس شرمندگی کی تردید بھیگی کیفیت کو چھپایا نہیں جاسکتا، ان آوازوں کی زبان بند نہیں کر سکتے، جو خشک و سبز جڑی بوٹیوں سے ٹکراتی ہوئی وطن سے بیگانگی اور غیروں کے ہاتھوں کھلونا بن کر انھیں کی زبان وبیان کا کھوکھلا مجسمہ بننے کے بعد شغان بن کر سماعت سے ٹکرائے، زمین اور زمین زادوں نے بغلگیر ہو کر اپنا حق ادا کر دیا لیکن تم اور تم جیسوں کو تاریخ کے کٹہرے میں ماتمی لباس زیب بدن کر کے کھڑا ہو نا ہوگا، تم اور تمہارے جیسے جو ایک اونٹنی کے خریدنے پر ان کے سات نسلوں کی چھان پھٹک کرلیتے ہو آج کن بدنسلوں کی جلو میں سر جھکا کر جارہے ہو تاریخ میں وطن اور زمین زادوں کے مقابل کھڑے ہونے کے حساب کے ساتھ ساتھ سر جھکا کر چلنے پر بلوچی خودی کو روندنے کے عمل کا بھی جواب دہ ہو.
یخو بولان کیلئے یہ رسم قربانی اور خون کے قطروں کو جذب کرنے کا عمل نیا نہیں، اور نہ زمین زمین زادوں کے خون سے نا آشنا ہے، چند قدم کے فاصلے پر کمانڈر جلات خان مری آسودہ خاک ہیں، بلوچ وطن کے ہر گوشے میں ہونٹوں پر جمی پیپڑیوں والے زمین زادوں اور امتیازوں کا یہی طرۂ امتیاز ہے کہ وہ گل زمین کو پیاسے نہیں رہنے دیتے چاہے اسکے لئے ان کو مشک زہری سے بولان تک کا سفر طے کرنا پڑے
امتیاز زہری کی شہادت فکری وابستگی اور مشکل حالات میں بھی اپنی مستند علمی بنیادوں پر مستقل مزاجی سے کھڑے رہنے سے ہمارے حوصلے بلند اور منزل کے حصول پر ایمان پختہ ہوجاتا ہے ایک ناقد نے کہا کہ ایسے لوگوں کو آپ لوگوں کو بچا کر رکھنا چاہیے جو تنظیم کا اثاثہ ہوتے ہیں، میں نے کہا کہ ان امتیازوں کے ایسے ہونے کا پتہ یوں چل جاتا ہے، ، یہی ہماری صلاحیت ہے، کہ پکے اور پختہ سونے کو ایک بار پھر بھٹی میں کندن بنانے چھوڑتے ہیں، اور کوئی پیمانہ نہیں،،
امتیاز نے بہت سوں کا کام آسان کردیا، جاگیر میں حصہ مانگنا تو کجا چھ فٹ زمین بھی نہیں مانگی، بلوچستان کے جس حصے میں دفن ہوئیں، اسی خاک کی توقیر بڑھا دی، ہاں زہری کے بلوچ نوجوانوں کیلئے ایک ذمہ داری چھوڑ گئے،
کہ یہ وطن خوداروں کا وطن ہے یہ زمین زادوں کا وطن ہے،اس میں مصنوعی اور نخوت سے بھرے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں، اب اس سماج کو فرسودہ نظام اور فرسودہ لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا فیصلہ کرنا ہے، اپنے آپ کو سمجھیں اپنے زات کو سمجھیں،اپنی مٹی سے پیدا ہونے
والے ان انقلابیوں اور ہیروز کے خیالات اور مشن کو جاری رکھیں ان پر فخر کریں، میں جب بھی اس علاقے سے گزروں تو سینہ فخر سے پھول جاتا ہے یہیں سے جنم لینے والے کچھ دوست ہیں جنکی قربت نے ہمیں سردوگرم موسموں میں جینا سکھایا، میں دعا کروں گا میرا یہ غرور قائم رہے
۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل