بلوچستان میں ریاستی مظالم سے انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ ہے،بی این ایم


کوئٹہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کیچ دشت میں پاکستانی فوج نے اپنی  بربریت کی انتہا کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں،سات دنوں میں متواتر  16 آپریشن کر کے 60افراد حراست میں لیکر لاپتہ کئے ۔انہوں نے کہا کہ  بلوچستان بھر میں میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے پاکستانی فوج انسانی حقوق کی  سنگین خلاف ورزیاں کرکے جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے جو 71کی بنگلہ دیش کی  صورتحال سے سنگین و بدتر ہے ۔ترجمان نے کہا کہ اگر انسانی حقوق کے ادارے  اور عالمی میڈیاہاؤسزاس سنگین اور تشویشناک صورتحال پر نظر نہیں کرینگے تو  ایک عظیم انسانی بحران جنم لے سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مند کے علاقے  مند یگ ندی میں قابض ریاستی ڈیتھ اسکواڈ بابو ڈکیت کے کارندوں نے فائرنگ کر  کے احمد ولد مراد ا بلو کے رہائشی اور داد محمد ولد شہداد گوبرد کے رہائشی  کو شہید کیا، ڈیرہ بگٹی گرد نواع میں بھی آپریشن جاری ہے جس سے ایک ہی  خاندان کے تین افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ بسیمہ کے علاقے راغے میں دو روز  قبل ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے نیاز ولد اسحاق کو اغوا کیا اور ہفتہ کے روز  اسکی مسخ لاش پھینک دی، ہفتہ ہی کے روز مشکے شیرگی سے ڈیتھ اسکواڈ جنکو  آرمی کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اسلام ولد باران کو اغوا کیا۔پاکستانی فوج  کی جانب سے ایک ہفتے میں کئے گئے آپریشن کی تفصیلات جو یوں ہے ۔8نومبر  کوعلی الصبح دشت کے علاقے مچی میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے ستر سالہ  غلام شاہ،بلال ،یونس ولد غلام شاہ،مرد شیر محمد،صابر ولدجامی،پرویز مراد  بخش،رشید عثمان اور ستر سالہ عثمان ولد باہوٹ کو حراست بعد لاپتہ کیا۔جبکہ  دوسرے روز سب کو رہا کیا گیا لیکن صابر تاحال لاپتہ ہیں۔8نومبر کی شام کو  دشت کے علاقے پٹوک میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے حمل مراد بخش،خالد  ابراہیم اور ارشاد حاصل نامی 3افراد حراست میں لیکر لاپتہ کئے جبکہ چوتھے  دن انہیں رہا کیا گیا۔10نومبر علی الصبح دشت کے علاقے گوہرگ گرّ میں فوج نے  آپریشن کرکے نیوز محمد حیات نامی شخص کو اغوا کیا۔10نومبر کو دوپہر کے وقت  فوج نے دشت پرنٹ بازار میں آپریشن کیا۔10نومبر کو بوقت شام دشت جان محمد  بازار میں فوج نے آپریشن کرکے نثار شاہداد،راشد ابراہیم ،عبید عبدالصمد  ،سراج حاصل،عبید شے محمدنامی 5افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا ۔چار روز  بعد4افراد رہا کئے جبکہ سراج نامی شخص تاحال لاپتہ ہیں۔ 11نومبرکو دشت  جتّانی بازار میں فوج نے آپریشن کرکے مسلم عبدالمجید اور عبدالمجید کتب  نامی دو باپ بیٹوں کو حراست بعد لاپتہ کیا۔13نومبر کو علی الصبح دشت باہوٹ  چات میں فوج نے آپریشن کرکے دودا مراد محمد اور شعیب مراد محمد نامی دو  بھائیوں کو حراست بعد لاپتہ کیا۔13نومبر کو دوپہر کے وقت دشت درچکو میں فوج  نے آپریشن کرکے خالدلعل بخش،عارف وشدل ،ناصر نذر محمد،شبیر صوالی،شعیب  گزّی،سعید گزّی ،اعجاز جامی اور وحید کمال نامی 8افراد کو حراست میں لیکر  لاپتہ کیا۔14نومبر کو علی الصبح فوج نے دشت گوہرگ حسین بازار میں آپریشن  کرکے زاہد رحمت نامی ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا۔بعد ازاں گوہرگ باغ  اور کپکپار زریں بازار میں آپریشن کرکے گھروں میں لوٹ مار کیا۔14نومبر کو  دوپہر کے وقت فوج نے بل نگور میں آپرشین کرکے چاکر پھلان ،دو شمبے  بہادر،سمیر عبدالحمیداورحمید ابراہیم نامی 4افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ  کیا۔17نومبر کو علی الصبح دشت پنودی اور کینال میں فوج نے آپریشن کرکے نعیم  داد محمد،نصرت دوست محمد،علم حاجی ملا،نذیر مصطفی،رفقی غلام رسول،نادل  حاجی حاصل اور خالد غلام رسول نامی 7افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام  پر منتقل کردیا۔جن میں تین اسکو ل ٹیچر ہیں۔حراست میں لئے گئے یہ افرادرات  کو رہا کردیئے گئے۔18نومبر کو علی الصبح دشت ملائی نگور،چاتیگ بازار،حاجی  کرم شاہ بازار،پھلان بازارمیں فوج نے آپریشن کرکے 5افرادنسیم کریم بخش  اورستر سالہ حاجی کرم شاہ پشمبے کو ان کے تین بیٹو ں عبدالکریم ،ایوب اور  ملا محمد کو حراست بعد لاپتہ کیا۔بعد ازاں حاجی کرم شاہ اور اس کا ایک بیٹا  ملا محمد کو چھوڑ دیا گیا۔18نومبر کو دوپہر کے وقت فوج نے دشت ہورمیں  آپرشین کرکے 26افراد حراست بعد لاپتہ کئے۔جن کی شناخت بدل سئیکی،وحید  سئیکی،حبیب فقیر،اقبا ل حسین ،نصیر جان محمد،سنیرجان محمد،حمزہ شاھداد،الہ  بخش مراد جان ،نسیم سخیدار،حلیم سخیدار،نسیم صالح محمد،عزیز کرم بخش،سلمان  رشید،شریف دلمراد،نیاز ابراہیم ،باسط ابراہیم ،ریاض داد محمد،فضل داد  محمد،ندیم عبدالکریم ،مجید خداداد،وحید عبدالرحیم ،ستار عبدالرحیم ،حامد  سلیم ،شریف فقیر،لال جان سیٹھ احمد اور اکرم دوست محمد کے ناموں سے کی  گئیں۔جبکہ فوج نے آپریشن کے بعد علاقے میں لوٹ مار کر کے پانچ گاڑیاں  ،6موٹر سائیکل اور ایک ٹریکٹر اپنے ساتھ لے گئے۔18نومبر کو دن کے تین پہر  کے وقت فوج نے آپریشن کرکے عبدالکریم ولد غلام قادر جو کروس تنک نامی علاقے  کا رہائشی تھا کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔18نومبر کو رات ساڑھے گیارہ بجے  فوج نے دشت جان محمد بازار میں آپریشن کرکے 10افراد کو حراست بعد لاپتہ  کیا جن کی شناخت نور محمد اقبال ،عبدالحئی اقبال ،فہد اقبال ،یعقوب شاہ  مراد،لیاقت شہداد،زاہد ھاجی ابراہیم ،راشد حاجی ابراہیم ،ثنا اللہ سید  محمد،شاہو سید محمد اور جابر رشید کے ناموں سے کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل