بی  این پی کا قمبر مینگل کا دفاع، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو جواب

کوئٹہ  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ڈاکٹر اللہ نذر کے  بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مفروضوں پر توانائی صرف  کرنے کی بجائے بلوچ حقوق پر توجہ دی جائے کردار کشی کی بجائے حقوق کے حصول  پر توجہ مبذول ہو تو حلیف اور حریف کی پہچان ہو سکے گی ایک دوسرے پر  کیچڑاچھال کر مخصوص قوتوں کی خوشنودی کیلئے پرتھولے جاتے ہیں جس کیلئے تمام  حدیں پار کر کے بلوچ دشمن قوتوں کو مضبوط بنایا جاتا ہے اس سے قبل بھی ان  کی تنظیم کی جانب سے من گھڑت جھوٹ پر مبنی بیانات دیئے گئے جس میں حقیقت کو  توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا رہا اور2013ء میں پارٹی قائد سردار اختر جان  مینگل بلوچستان آئے تو فرضی ناموں سے پارٹی کے خلاف کالم بھی لکھے گئے ان  تمام منفی طرز عمل پر پارٹی دانستہ طور پر خاموش رہی کسی رد عمل کا اظہار  نہیں کیا اس کا ہر گز مطلب نہ لیا جائے کہ پارٹی کسی قسم کی مصلحت پسندی  کاشکار ہے علم ودانش اور سیاسی بصیرت ہمارے پاس بھی ہے لیکن بلوچ وطن اور  اپنی قومی مجموعی وسیع تر بلوچ مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا تاکہ قومی تضادات  نہ ابھر سکیں ہماری جدوجہد ہمیشہ بلوچ مجموعی مفادات کی بقاء کیلئے ہے اس  سے قبل بھی ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم نے پارٹی کارکنوں کو پنجگور ، آواران و  دیگر علاقوں میں شہید کیا اور ان کی ذمہ داریاں بھی قبول کرتے رہے بعد میں  خود پنجاب کی طرز پر وفاداری اور غداری کے سرٹیفکیٹ بھی دیتے رہے بیان میں  کہا گیا ہے کہ آج ایک بار پر خودکو بلوچوں کا ہمدرد خیرخواہ کہنے والا  بلوچستان کے سیاسی گھرانوں شہید میر لونگ خان مینگل کے فرزند میر قمبر  مینگل اور رحیم بخش محمد حسنی کے فرزند میر مولا بخش محمد حسنی پر ڈیتھ  سکواڈ جیسے تنظیموں کے قیام کے حوالے سے الزامات لگانا درست نہیں شہید لونگ  خان اور رحیم بخش محمد حسنی جو 70 ء کی دہائی میں بزرگ سیاستدان سردار  عطاء اللہ خان مینگل اور عظیم گوریلا کمانڈر شہید اسلم جان گچکی کے ہمراہ  قومی جدوجہد سے وابستہ رہے اور مسلسل قربانیاں دیتے ہوئے جدوجہد کی  بلوچستان کا ہر ذی شعور رحیم بخش محمد حسنی کے گھرانے کی قربانیوں سے بخوبی  واقف ہے اس وقت شاید موصوف کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی اسی جدوجہد کے  پاداش میں ان کے گھروں پر بمباری اور خاندان کے افراد شہید کئے گئے اسی طرح  شہید لونگ خان مینگل کے گھرانہ کی مسلسل بلوچ جہد میں قربانیاں نظر انداز  کرنا دراصل سورج کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے ان خاندانوں کے فرزندوں  کو سرکاری ڈیتھ سکواڈ کے القابات سے نوازنا باعث افسوس ہے آج بھی دشت  گواران میں شہید لونگ خان مینگل کی قبر جدوجہد و قربانیاں کی علامت ہے ایسی  قربانیوں کو فراموش کرنا سیاسی سنجیدگی نہیں کیا ہم ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ  سے اس سوال کی جسارت کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ جو آج تک لاپتہ  ہیں اور ان کی بیٹی بازیابی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں احتجاج ، لانگ مارچ  کرتے ہوئے والد کی بازیابی کی متلاشی ہے لیکن آج تک ڈاکٹر صاحب بازیاب نہیں  ہوئے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے بھائی ماسٹر رحمت اللہ کو سرکاری ایجنٹ قرار  دے کر شہید کرنا کہاں کی دانشمندی ہے کیا اسے اسی پاداش میں شہید کیا گیا  کہ اس کا بھائی آج تک لاپتہ اور بلوچ قومی جہد کیلئے قربانیاں دے رہا ہے ہم  سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کی جدوجہد میں بہت سے بلوچ فرزندوں ، نوجوانوں کی  قربانیاں ہیں موصوف ان شہداء کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ  ہی اس خام خیالی میں رہا جائے کہ موصوف صرف اور صرف بلوچستان کی جہد میں  صف اول کاکردار ادا کر رہے ہیں بلکہ وہ تمام شہداء جنہوں نے قربانیاں دیں  ان کی جدوجہد ایمانداری کو کسی بھی صورت رد نہیں کیا جاسکتا ۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل