پسنی کلانچ: 4لاپتہ افراد جعلی آپریشن میں ہلاک

گوادر پسنی کلانچ میں جعلی آپریشن بعد 4لاپتہ افراد کی لاشیں گوادر ہسپتال منتقل کردی گئیں۔تفصیلات کے مطابق آج بروز بدھ پاکستان آرمی نے 4لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوادر میں پہنچادی دیں۔چاروں لاشوں کی شاخت ان کی جیبوں سے برآمد شناختی کارڈ، اسٹوڈنٹس کارڈ، اور پرچیوں کے ذریعے کی گئیں۔ ایک کی شناخت 14سالہ طفر عصا کے نام سے ہوگئی جنہیں چند ماہ قبل گوادر میں کالونی سے فوج نے حراست میں لیکرلاپتہ کیا جو ہائی اسکول جدید گوادر کی طالب علم ہے ۔دوسرے کی کی شناخت ساجد علی کے نام سے ہوگئی جو وارڈ نمبر 4پسنی کا رہائشی ہے جنہیں 4سال قبل پاکستان آرمی نے ان کے گھر پسنی وارڈ نمبر 4سے رات کے وقت حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔تیسرے کی شناخت صابر علی ولد محمد رہائشی امبی کلانچ تحصیل پسنی کے نام سے ہوگئی جنہیں دو سال سال قبل امبی کلانچ سے فوج نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا ۔جبکہ چوتھے لاش کی شناخت صلاح الدین مشکے کے نام سے ہوگئی جو ان کے جیب سے برآمد ایک پرچی کے ذریعے کی گئی ہے۔کہا جارہا ہے کہ صلاح الدین بھی ایک لاپتہ شخص ہیں جنہیں مشکے سے حراست بعد لاپتہ کیا گیا ہے ۔چاروں لاشوں کی ڈی ایچ کیوہسپتال گوادر منتقل کرنے کے بعد پاکستانی فوج نے مقامی صحافیوں کے ایک پریس ریلیز جاری کردی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آج بروز بدھ کوپاکستانی آرمی اور ایف سی نے تحصیل پسنی کے علاقوں سردشت کلانچ اور بیلار کلانچ میں ایک مشترکہ آپریشن کیا جس میں چار شدت پسند مارے گئے جبکہ ایک کو حراست میں لیا گیا ہے ۔واضع رہے کہ لاپتہ افراد کی جعلی مقابلوں میں ہلاکت پاکستان آرمی کا ایک وطیرہ بن چکاہے ۔ریاست کی عقوبت خانوں میں تیس ہزار سے زائد بلوچ لاپتہ افراد موجود ہیں جنہیں پاکستان آرمی ،ایف سی اور خفیہ ادارے اپنی ہر آپریشن میں ان کی لاشیں پھینک دیتی ہے اور میڈیا کو پریس ریلیز جاری کرتی ہے کہ یہ شدت پسند تھے جنہیں آپریشن میں مارا گیا ہے جبکہ جن کو حراست میں لیا جاتا ہے انہیں بھی کبھی پولیس یا کورٹ میں پیش نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی میڈیا پرسن انہیں یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ تو مسنگ پرسنز فہرست میں درج افراد تھے ؟


Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل