انقلابی رہنما فیڈل کاسترو 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ہوانا کیوبا کے سرکاری ٹی کے مطابق سابق صدر اور کمیونسٹ انقلاب کے سربراہ  فیدل کاسترو 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔فی الحال سرکاری ٹی وی نے  اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔فیدل کاسترو کی یک جماعتی حکومت  نے کیوبا پر تقریباً نصف صدی تک حکومت کی اور 2008 میں اقتدار اپنے بھائی  راؤل کاسترو کو منتقل کر دیا۔ان کے مداحین ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ  انھوں نے کیوبا واپس عوام کو سونپ دیا۔ تاہم ان کے مخالفین ان پر حزب  اختلاف کو سختی سے کچلنے کا الزام لگاتے ہیں۔اپریل میں فیدل کاسترو نے  کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے آخری دن پر غیر متوقع خطاب کیا تھا۔انھوں نے اپنی  بڑھتی ہوء عمر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کیوبا کا کمیونسٹ تصور  صحیح ہے اور کیوبا کے عوام ضرور فاتح ہوں گے۔‘سابق صدر نے اپنے خطاب میں  کہا تھا کہ ’میں عنقریب 90 برس کا ہو جاؤں گا، اور یہ وہ بات ہے جس کا میں  نے کبھی نہیں سوچا تھا۔‘فیدل کاسترو نے کہا تھا : ’عنقریب میں دوسروں کی  مانند ہو جاؤں گا، ہم سب کی باری آئے گی۔‘
 فیدل کاسترو کی زندگی پر ایک نظر:
 وہ1926میں کیوبا کے جنوب مشرقی صوبے اورینٹی میں پیدا ہوئے۔1953میں بتیستا  حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کی سربراہی کرنے پر جیل ہوئی۔1955میں عام معافی  کے تحت جیل سے رہا کر دیے گئے۔1956میں حکومت کے خلاف چی گویرا کے ہمراہ  گوریلا لڑائی کا آغاز کیا۔1959میں بتیستا کو شکست دینے کے بعد کیوبا کے  وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔1960میں بے آف پگ میں سی آئی کی سرپرستی میں ہونے  والی بغاوت کو پسپا کیا۔1962میں کیوبا میں یو ایس ایس آر جوہری میزائل نصب  کر سکتا پر اتفاق کرنے سے کیوبا کا میزائل بحران شروع ہوا۔1976میں کیوبا کی  قومی اسمبلی نے انھیں صدر منتخب کیا۔1992میں امریکہ کے ساتھ کیوبا کے  محاجرین پر معاہدہ ہوا۔2008میں صحت کی خرابی کے باعث بطور صدر اپنا عہدہ  چھوڑ دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل