ہیلری  کو شکست ،ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے

نیو  یارک خبررساں ادارے اے پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ہلیری کلنٹن  کو شکست دے کر امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔انھوں نے یہ فتح کئی  کلیدی ریاستوں میں یک بعد دیگرے کامیابی کے بعد حاصل کی، حالانکہ گذشتہ کئی  ماہ سے رائے عامہ کے جائزوں میں کلنٹن کو ان پر برتری حاصل تھی۔فلوریڈا،  اوہائیو اور شمالی کیرولائنا جیسی اہم سوئنگ سٹیٹس میں ٹرمپ کی کامیابی نے  ان کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔عالمی مارکیٹوں میں اتھل پتھل جاری ہے اور  ڈاؤ میں 800 پوائنٹس کی کمی واقع ہو گئی ہے۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے فتح کی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ابھی ہلیری کلنٹن نے فون کر  کے ہمیں، ہم سب کو مبارک باد دی ہے۔‘ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ’ہلیری کلنٹن نے  بڑا سخت مقابلہ کیا اور میں امریکہ کے لیے ان کی کوششوں کی قدر کرتا  ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ ’میں نے شروع ہی سے کہا تھا کہ یہ صرف ایک انتخابی  مہم نہیں بلکہ تحریک تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا جو چاہتے تھے کہ  حکومت لوگوں کی خدمت کرے گی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم مل کر کام کریں گے اور  امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست اور ہیلری کلنٹن کی کامیابی  سے متعلق تمام تبصرے،تجزیے اور سروے نتائج غلط ثابت ہوئے اور ری پبلکن  پارٹی کے رہنما ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن کو اپ سیٹ شکست  دے کر امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے۔امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی  ایٹڈ پریس اور برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری  کلنٹن کے درمیان عہدہ صدارت کے لیے کانٹے کا مقابلہ ہوا جس کے بعد ڈونلڈ  ٹرمپ نے صدر بننے کے لیے درکار 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرلیے۔سی این این کی  رپورٹ کے مطابق ہیلری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون کرکے انتخاب میں  شکست تسلیم کی اور انہیں مبارک باد دی۔اس فتح کے بعد 70 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ  وائٹ ہاؤس میں جانے والے معمر ترین امریکی صدر بن گئے۔کامیابی کے بعد ڈونلڈ  ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا اور انتخابی مہم کے دوران تنقید کے نشتر  برسانے والے، مذاہب اور ممالک کے خلاف باتیں کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحاد  ، شراکت داری اور مل کر کام کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اختلافات  کے بجائے اتفاق رائے سے چلیں گے، تنازعات کے بجائے شراکت داری کو فروغ دیں  گے۔دیگر ممالک سے امریکا کے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا  کہ تمام ملکوں کے ساتھ معتدل رویہ اپنائیں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ  امریکیوں کے پرانے زخموں کو ٹھیک کریں گے اور وہ ہر امریکی شہری کے صدر ہوں  گے۔انہوں نے شکست سے دوچار ہونے والی اپنی حریف ہیلری کلنٹن کی بھی تعریف  کیا اور کئی برسوں پر محیط ان کی قومی خدمات کو سراہا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہیلری  کلنٹن طویل عرصے سے سخت محنت کرتی آئی ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم  ان کی خدمات پر احسان مند ہوں۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم امریکی  مفادات کو سب سے اوپر رکھیں گے اور سب کے ساتھ معتدلانہ تعلقات رکھیں  گے‘۔نتائج سامنے آنے کے بعد حامیوں سے خطاب کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ  اور بچوں کو بھی اسٹیج پر لے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی اہلیہ اور  بچوں کا شکر گزار ہوں جو اس مشکل سفر میں میرے ساتھ رہے، میں اس ملک سے بہت  محبت کرتا ہوں، آپ سب کا میرا ساتھ دینے کا شکریہ‘۔ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب  مائیک پینس نے قبل ازیں اپنے خطاب میں ٹرمپ کی فتح کو ’تاریخی شب‘ قرار  دیا۔بائیو گرافی ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کے  حوالے سے چند بنیادی معلومات درج ذیل ہیں:
 ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ڈونلڈ جان ٹرمپ 14 جون 1946 کو نیویارک کے علاقے کوئنز لینڈ میں پیدا ہوئے۔
 1971 میں انہوں نے مین ہیٹین میں پراپرٹی کے کاروبار میں قدم رکھا۔
 1980 میں انہوں نے نیویارک میں گرینڈ حیات ہوٹل کا آغاز کیا جس کے بعد انہیں شہر کے معتبر تریں ڈویلپر کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
 2004 میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ٹی وی این بی سی کے ریئلٹی شو The Apprentice میں جلوہ گر ہوئے اور ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
 2015 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔
 صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں متعدد ابتدائی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرنے  کے بعد 19 جولائی 2016 کو وہ ری پبلکن پارٹی کے باضابطہ صدارتی امیدوار  نامزد ہوئے۔
 ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان عہدہ صدارت کے لیے کانٹے کا مقابلہ  ہوا ، دنیا بھر کی نگاہیں امریکی صدارتی انتخاب کے نتیجے پر لگی ہوئی تھیں۔
 امریکا کے انتہائی منقسم تقریباً 20 کروڑ ووٹرز کو ڈونلڈ ٹرمپ یا ہیلری کلنٹن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔
 
 اہم معلومات
 امریکا کی 50 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں مجموعی طور پر 538  الیکٹورل کالج ووٹ تقسیم ہیں۔کامیابی کے لیے صدارتی امیدوار کو کم سے کم  270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ٹرمپ کی کامیابی کے لیے ریاست اوہائیو  کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا تھا اور وہ اوہائیو کا میدان مار چکے  ہیں۔کولوراڈو، فلوریڈا، آئیوا، مشی گن، منی سوٹا، اوہائیو، نیواڈا، نیو  ہمپشائر، شمالی کیرولائنا، پنسلوانیہ، ورجینیا اور وسکونسن کو سوئنگ  ریاستیں کہا جاتا ہے۔سوئنگ ریاستیں وہ ہوتی ہیں جہاں عام طور پر کڑا مقابلہ  ہوتا ہے اور جہاں کے نتائج فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ہیلری کلنٹن نے  ریاستوں کنیکٹی کٹ ، ڈیلاویئر، ایلینائے، میری لینڈ، میساچیوسٹس، نیوجرسی،  نیویارک، رہوڈ آئی لینڈ، ورمونٹ اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کامیابی  حاصل کی تاہم وہ 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے امریکی تاریخ کی پہلی خاتون  صدر منتخب نہ ہوسکیں۔
 
 ٹرمپ ٹاور میں جشن
 ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کی ساتھ ہی نیویارک میں ان کے حامیوں کا جشن شروع ہوگیا  جس کی تیاریاں نتائج آنے سے قبل ہی مکمل کرلی گئی تھیں۔دوسری جانب ہیلری  کلنٹن کے حامیوں میں مایوسی پھیل گئی جبکہ کئی ووٹرز آبدیدہ بھی نظر  آئے۔انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی رہائش گاہ  ٹرمپ ٹاور میں جشن کا بندوبست کرلیا گیا تھا، ان کے گھر کے باہر حامیوں کی  بڑی تعداد موجود تھی جنہیں اس بات کا یقین تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بڑا اپ سیٹ  کریں گے۔ٹی وی چینلز پر ٹرمپ اور ہیلری کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد دیکھ کر  حامی نعرے بازی کرتے رہے، ایک امریکی شہری نے بتایا کہ یہ ہمارے لیے ایک  فٹبال میچ جیسا ہے ، کبھی ٹرمپ اسکور کرتے ہیں تو کبھی ہیلری۔دوسری جانب  نیویارک ہی میں ہیلری کلنٹن نے بھی ایک بڑے کانفرنس سینٹر میں فتح کا جشن  منانے کی تیاریاں کررکھی تھیں جو دھری کی دھری رہ گئیں۔ہیلری کلنٹن نے اپنے  ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ تھا کہ ’ہماری ٹیم کو خود کو فخر ہونا چاہیے،  نتیجہ چاہے جو بھی ہو میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘۔انتخابات میں شکست  کے بعد ہیلری کلنٹن نے اپنے پہلے سے مایوس حامیوں کو مزید اداس کردیا اور  اعلان کیا کہ وہ فی الحال ان سے خطاب نہیں کریں گی۔ہیلری کلنٹن کی انتخابی  مہم کے چیئرمین جان پوڈیسٹا نے جاوٹس سیں ٹر میں قائم کیے گئے ڈیموکریٹک  ہیڈ کوارٹرز میں جمع حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ سب کا بہت شکریہ،  آپ لوگ گھر جائیں اور تھوڑا آرام کرلیں‘۔انہوں نے کہا کہ انتخاب کے حوالے  سے کل مزید بات کی جائے گی ہیلری کلنٹن آج کوئی بات نہیں کریں گی۔ان کا  کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ یہاں کافی دیر سے موجود ہیں لیکن فی  الحال میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ہم تھوڑا اور انتظار کرسکتے ہیں،  انتخابی نتائج مکمل طور پر سامنے آنے دیں پھر ہم اس پر بات کریں گے۔ڈونلڈ  ٹرمپ کی برتری کی خبریں آتے ہی امریکی ڈالر کی قدر میں دیگر کرنسیوں کے  مقابلے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی  رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر امریکی ڈالر کی قدر جاپانی ین کے مقابلے میں دو  فیصد تک کم ہوئی۔ایک موقع پر امریکی ڈالر 102.40 ین تک گر گیا جبکہ بعض  موقعوں پر اس کی قدر 105.480 تک بھی پہنچی اور انتخابی عمل کے دوران اس کی  قدر میں مسلسل اتار چڑھاؤ ہوتا رہا۔سوئس فرانکس کے مقابلے میں امریکی ڈالر  کی قیمت میں 1.2 فیصد کمی واقع ہوئی۔اس کے علاوہ دیگر کرنسیوں کی قدر میں  بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، یورو کی قدر میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا اور ایک  یورو 1.1163ڈالر تک پہنچ گیا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل