لاپتہ بلوچ اسیران وشہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2552 دن ہو گئے


کوئٹہ  لاپتہ بلوچ اسیران وشہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2552 دن ہو  گئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماء میر  عبدالغفار قمبرانی نے لاپتہ افراد وشہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی  ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ذہنی شعور کی آزاد ی کی مرہون منت آج ایک قوم  خواب سے بیدار ہو کر آجوئی کی پرو کار بنی ہوئی ہے وہ ہر محاذ پر لڑنے کی  صلاحیت رکھتے ہیں اور نقلاب ایک سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپ نے  ساتھ ہر ظلم کے نشان بہا کر لے جا تا ہے کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مومین  اس وقت کامیاب و کامران نہیں ہوتے جب تک وہ ظلم وتشددوغلامی کا حصول وگرداب  سے نکل کر شعور کی آزادی کی طرف راغب نہ ہو اگر ایسا نہیں تو اس جمہوری  دور میں بھی کا رروائیاں جاری ہے تو ایک ماں اپنے تمام کام چھوڑ کر نظریں  دروازے پر لگا دیتی ہے کہ کہیں میرا لخت جگر تو نہیں آیا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل