(1870-1924) کامریڈ لینن

(1870-1924) کامریڈ لینن

ولادمیرایلیچ اولیانوف، جو آج فرضی نام “لینن”سے زیادہ جانا جاتا ہے۔یہ سیاسی رہنماروس میں اشتمالیت کے قیام کا اصل زمہ دارتھا۔وہ مارکس کا ایک پر خلوص چیلا تھا۔لینن نے وہی حکمت عملی اپنائی جس کی مارکس نے حمایت کی تھی۔ لینن کے بنائے ہوئے اشتمالی نظام کے دنیا کے مختلف خطوں میں فروغ کے باعث وہ تاریخ کے موثر ترین افرادکی صف میں کھڑا ہوتا ہے

۔1870ء میں لینن روس کے قصبے “سمر سک” (جسے آج اس کے نام پر اولیا نوف کہا جاتا ہے)میں پیدا ہوا۔اسکا باپ ایک وفادار سرکاری ملازم تھا۔تاہم اس کا بڑا بھائی الیگزینڈرایک نوجوان انقلابی تھا جسے زار کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں دار پر لٹکا دیا گیا۔تئیس برس کی عمر میں لینن خود ایک پر جوش مارکسی بن گیا۔ دسمبر 1895ء میں اس کو آزاد حکومت نے انقلابی سر گرمیوں میں شمولیت کے الزام میں گرفتار کیا۔چودہ مہینے اس نے جیل میں گزارے جس کے بعداسے سائبیریامیں جلاوطن کر دیا گیا۔

سائبیریا میں اپنے تین سالہ قیام کے دوران،گو یہاں رہنااسے ناگوارخاطر نہ ہوتا،اس نے ایک انقلابی کارکن عورت سے ہی شادی کی۔تب اس نے اپنی کتاب “روس میں سر مایہ داری کا فروغ” لکھی جنوری 1900ء میں اس کی سزا پوری ہوئی۔چند سال بعد اس نے فرانس کادورہ کیا، پھر مغربی یورپ کا سفر کیا، اس نے اگلے سترہ برس ایک پیشہ وار انقلابی کی حیثیت سے کام کرتے گزارے۔جب روسی سماجی جمہوریت کی محنت کشوں کی تنظیم جس کا وہ ایک رکن تھا دو حصوں میں منقسم ہوگئی، لینن”بالشویک” حصہ کا رہنمابن گیا۔

جنگِ عظیم اول نے لینن کو ایک سنہری موقع دیا۔ جنگ روس کے لیے ایک فوجی اور معاشی تباہی ثابت ہوئی۔جس نے سارے زار، نظام میں عد م ا طمینانی میں شدیداضافہ کیا۔ مارچ 1917ء میں زار حکومت کا تختہ الٹ گیا۔تب ہونہی معلوم ہوا کے روس میں اب جمہوری حکومت آئیگی۔ زار کے زوال کی خبر پا کر لینن فوراََروس واپس آیا۔وہاں پہنچنے پر اس نے دیکھا کہ جمہوری تنظیموں نے اگر چہ ایک عارضی حکومت قائم کرلی تھی لیکن اس کے پاس طاقت نہیں تھی، سو یہ مربوط اشتمالی تنظیم کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنے کا بہترین موقع تھا۔ اس نے “پالشویک” کے اراکین کو قائل کیا کہ وہ فوری طور پر اس عارضی حکومت کو ہٹاکر اسے ایک اشتراکی حکومت سے بدل دیں۔جولائی میں ایسی کاوش کامیاب نہ ہوئی۔لینن کو روپوش ہوناپڑا۔ نومبر 1917ء میں دوسری بار کوشش کی گئی جو کامیاب ہوئی اور لینن نئی ریاست کا سربراہ بن گیا۔

ریاستی سربراہ کی حیثیت سے لینن کا کردار سفاک تو نہیں تھا تحکمانہ تھا۔ پہلے تو اس نے تمام ریاستی ڈانچے کو نا عاقبت اندیشی اور شتابی سے مکمل اشتراکی نظام میں تبدیل کیا۔جب ایسااقدام کامیان نہ ہوا تو اس نے اپنے آپ میں فورََلچک پزیری پیداکی اور اس میں ایک ملی جلی سرمایہ دارانہ، اشتمالی معیشت کو رائج کیا جو متعددبرسوں تک سویت یونین میں قائم رہی۔

مئی 1922ء میں لینن سخت بیمار ہوا جس کے بعد اپنی موت کے برس 1924 ء تک وہ کام کاج کے قابل نہ رہا۔ اس کی موت کے بعد اس کی لاش کو حنوط کر کے محفوظ کر لیا گیا اور اسے ماسکو میں ریڈ سکوائرکے عجائب گھر میں سجا دیا گیا۔

لینن کی بنیادی اہمیت ایک فعال انسان کی حیثیت سے بنتی ہے کہ اس نے بالشویکوں کو روس میں اقتدار دلایااور اس طرح دنیا میں اولین اشتمالی حکومت قائم کی۔اس نے کارل مارکس کے نظریات کو اپنا یااور ان کا اپنی عملی سیاسی حکمت عملی کی صورت میں اطلاق کیا۔ اس اولین حکومت کا قیام جدیدتاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ 1917ء سے 1979ء تک اشتمالی اقتداردنیا بھر میں پھیلا۔ایک دور میں ایک تہائی دنیااشتمالی قلمرومیں شامل تھی۔

اگر چہ بنیادی طورپر وہ ایک سیاسی رہنماتھا۔ تاہم لینن نے اپنی تحریروں کے زریعے بھی انسانوں پر گہرے اثرات چھوڈے۔لینن کے نظریات کارل مارکس کی فکر سے بر عکس نہیں تھے۔ تاہم مختلف امر پر اسکا اصرار مختلف تھا۔لینن کی سب سے زیادہ دلچسپی انقلاب میں تھی۔ وہ خود کو انقلاب کے حربوں کا ماہر جانتا تھا۔اس نے ہمیشہ تشدد کی ضرورت پر اصرار کیا۔طبقاتی کشمکش کا کوئی ایک مسئلہ بھی کبھی تاریخ میں تشدد کے بغیرحل نہیں ہوا۔یہ ایک خاص فقرہ ہے۔مارکس نے تو پرولتاریہ کی آمریت کا بس معمولی زکر کیا ہے، لینن بس اسی میں اٹک گیا۔ “پرولتاریہ کی آمریت کا مطلب اسکے سوااور کچھ نہیں کہ اسکی بنیادطاقت ہے، اس کی نہ قانون اور نہ قطعاََکسی حکومت کے زریعے حد بندی کی جا سکتی ہے”۔

لینن کے خاص سیاسی نظریات کی کیا اہمیت ہے؟اپنی کتاب کی اشاعت اول میں اس نے لکھا: “سویت حکومت کی سب سے ممتازخصوصیت اس کی معاشی پالیسیاں نہیں ہیں (متعدد دیگر ممالک میں اشتراکیت پسندحکومتیں موجودہیں)بلکہ اپنی سیاسی قوت کو لا محدودطورپر برقراررکھنے کا ان کا طریقہ کار ہے۔ لینن کے بعد دنیا میں کہیں بھی اشتمالیت پسند حکومت کو جو ایک مرتبہ قائم ہوگئی،اپنی جگہ سے اکھاڑہ نہیں جا سکاملک کے اندر طاقت کے تمام وسائل جیسے صحافت،بینک،گرجا،مزدورتنظیم وغیرہ پر حتمی گرفت حاصل کر کے اشتراکیت پسند حکومتیں داخلی بغاوت کے ہر امکان کو ختم کر چکی ہیں۔ان کی زرہ بکتر میں عیب ہو سکتا ہے، اگر ایسا ہے توحال یہ کسی کو دکھائی نہیں دیا۔

ایک دور میں یہ پیراگراف بامعنی ہو سکتا تھا، لیکن گزشتہ حالیہ برسوں میں ہونے والے مختلف واقعات نے اسے غلط ثابت کر دیا۔لینن کی تمام سلطنت کا شیرازہ بکھر چکا ہے لینن کو امید تھی اور اس کے حریفوں کو خوف تھاکے عقوبت گاہوں اورتشہیرکی مہم میں اشتراک پیدا کرنے سے ایک ایساحکومتی نظام وضع ہوا تھاکہ جوصدیوں تک باقی رہیگا۔وہ غلطی پر تھا، اس اعتبار سے اس کی سیاسی وقعت کہیں کم ہوجاتی ہے۔

تاہم اگر ایک نظریہ سازکے طورپر لینن کی حیثیت میں مبالغہ کیاجائے(جبکہ اس کے معاشی نظریات مکمل طورپرکارل مارکس کے فلسفہ سے ماخوذہیں)اس کے باوجود اس کی بنیادی اہمیت ایک فعال انسان کی حیثیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایک ایسے سیاسی قائد کی حیثیت سے جس نے اقتدار حاصل کیا اور اسے اپنی ملک کی قسمت بدل دینے کے لیے استعمال کیا۔تاہم تاریخ میں اس کی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے ہمیں پہلے اس کے اقدامات کی اہمیت کو اس کے جانشین جوزف سٹالن کے موازنے سے معلوم کرنی چاہیے۔

لینن کا دورِ اقتدار صرف پانچ برسوں پر محیط ہے ان پانچ برسوں میں اس نے روسی اشرافیہ کی طاقت کو مکمل طور پر ختم کر دیااور ملک کو اشتمالیت پسندی کی راہ پر ڈال دیا۔لیکن پر سٹالن ہی تھا، جس نے آخر کار کسانوں کو اشتراکی نظام کا خوگر بنایااور یہ سٹالن ہی تھا جس نے آخر کار سویت یونین سے نجی کاروبار کو ختم کردیااور یہ بھی سٹالن کے دور میں ہوا کہ سویت اشتراکیت پسندیاایک عالمگیرطاقت بن گئی، جو اپنی کاروائیوں کے زریعے دنیا کے ہر ملک سے مغرب کے خلاف کار فرما تھی۔

اپنے چند سالہ دورِ اقتدار میں لینن کئی ملین لوگوں کی اموات کا زمہ دار بنا، اس نے اشتراکیت پسندانہ منصوبوں کی سیاسی مخالفت کو دبانے کے لیے عقوبت خانے تیار کیے۔ تاہم سٹالن کے دور میں یہ عقوبت خانے اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور یہ بھی سٹالن کے دور میں ہی ہوا کے متعدد حکومتی معزولیاں اور اموات واقع ہوئیں۔تو کیا اب یہ کہنا بے جاہے کہ لینن، سٹالن کی آمد کا سبب بنا اور اس کے لیے راہ ہموار کی، تو کیا لینن اس سے زیادہ اہم ہے؟ یہاں ایک واقع کی مثال دینی بہترہے۔ اس واقعہ میں مقدونیہ کا بادشاہ فلپ دوئم اور اس کا بیٹا سکندرِ اعظم شامل ہے۔فلپ ایک ذہین سربراہ تھا جس کی عسکری اور انتظامی خوبیوں نے سکندر کے لیے راہ ہموار کی اوراسے ایک موقع دیا۔ تاہم سکندر نے اس موقع سے اس درجہ ستفادہ کیاکہ جو غیر متوقع تھا اور اس کے کہیں زیادہ تھا، جتنا کوئی دوسرا شخص کرتا، سو میرے خیال میں تب جو کچھ بھی ہوا اس میں سے بیشترکی زمہ داری سکندر ہی کے سر جاتی ہے۔ایسی ہی دلیل کے ساتھ میں نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ سٹالن، لینن سے کہیں زیادہ اثرانگیزشخصیت تھے۔

لیکن اگر چہ لینن کی وقعت سٹالن سے کم ہے(مارکس سے بھی کم ہے جس کی تحریروں نے جملہ اشترا کی تحریک کے لیے نظریاتی بنیاد اور متحرک فراہم کیا) اس کے باوجود وہ ایک با اثر شخصیت ہے، نہ صرف اس نے سویت یونین میں سٹالن کے لیے راستہ صاف کیا بلکہ اس کی تحریروں، پالیسیوں اور اس کے اقدامات نے دیگر کئی ممالک میں اشتراکی تحریک پر گہرے اثر مرتب کیے۔

کبھی کبھار یہ کہا جاتا ہے کہ سویت یونین میں ہونے والا بے شمارجانوں کازیاں لینن کے نظام کے سبب تھا لیکن یہ سٹالن کی انتہائی سفاکی اوردرندگی کا نتیجہ بنا۔میرے خیال میں یہ خیال غلط ہے اول سویت یونین میں لاکھوں لوگ لینن کے دور میں مارے گئے۔ جبکہ سٹالن اقتدار میں نہیں تھا، مزید برآں دیگر اشتراکیت پسند ریاستوں میں اشتراکی رہنما بے جا رحمانہ اور تبا کن کاروائیوں میں مصروف تھے۔ اسکی ایک اہم مثال “پول پوٹ” ہے جو کمبوڈیا پر 1975ء سے 1979ء تک حکمران رہا۔ اس نسبتََامختصر دور میں قریب دو ملین لوگ مارے گئے، یہ تعداد اس سے کہی زیادہ ہے جتنے لوگ سٹالن کے پچیس سالہ دورمیں سویت یو نین میں قتل ہوئے۔ اگر چہ لینن کے قائم کردہ نظام کا بُرانتیجہ یہ قتل عام نہیں ہوسکتا، لیکن اس نے ایسا سب کچھ ہونے کا امکان پیدا کیا۔ممکن ہے کہ لینن نے اپنی تمام زندگی جبرکو ختم کرنے میں ہی گزار ی ہو، مگر اس کے اقدامات کا اصل نتیجہ دنیا کے ایک بڑے مفتوح حصہ سے انسانی بنیادی آزادیوں کے تلف ہوجانے کی صورت میں نکلا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل