عظیم سانحہ – میرغلام محمد شاہوانی


 عظیم سانحہ – میرغلام محمد شاہوانی

۔۱۹۵۵ء میں ڈاکٹر خان کو بلوچستان کے شاہی جرگہ ممبروں اور کوئٹہ بلدیہ کے ممبروں نے جس ڈرامائی انداز میں نواب اکبر بگٹی کے مقابلہ میں منتخب کر لیا تھا۔ غلام محمد شاہوانی نے اس ڈرامائی انتخاب کو عظیم سانحہ قرار دیکر نوائے وطن کے عزیز نمبر (16 جون 1955ء)میں اداریہ بعنوان عظیم سانحہ لکھا۔ جس کے لکھنے پر ڈاکٹر خان صاحب نے غصہ میں آکر کہا تھا کہ میں بلوچوں کے صحافی غلام محمد شاہوانی کی چمڑی اتار کر اپنا جوتا بناونگا چنانچہ24 جون 1955 کو غلام محمد شاہوانی کو جرات مندانہ صحافت کی پاداشت میں گرفتار کیا گیا اور نوائے وطن کی ۲۴ جون کی اشاعت کو ضبط کر لیا گیا۔ نوائے وطن کااداریہ عظیم سانحہ قارئیں کیلئے پیش ہے۔

عظیم سانحہ – میرغلام محمد شاہوانی

دستور میں بلوچستان کی واحد نشست جس ڈرامائی انداز میں ڈاکٹر خا ن صاحب کو پیش کی گئی ہے اس سب کے متعلق تین قبائلی سرداروں نے جو اس ڈرامے کے باغی کرداروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت کا انکشاف کر کے سرکاری دباؤ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ان سرداروں نے پہلی مرتبہ اعلانیہ طور پر خداوند انِ حکومت کی منشاء کو ٹھکرا کر ضمیرْ اصول اور فرض کے تقاضوں کو اپناتے ہوئے جرات و بے باکی کا سہارا لے کر جو صحت مند روایت قائم کی ہے وہ ہمارے نزدیک ایک قابل تعریف کارنامہ ہے۔اس اقدام سے بلوچستان کی سسکتی ہوئی امیدوں میں تھوڑی دیر اور رینگنے کی سکت پیدا ہوگئی ہے نیک ارادوں مخلص تمناؤں اور پاک خواہشوں کی صورت میں ہم یہ توقع رکھیں گے کہ بلوچستان کی سسکتی ، رینگتی اور دم توڑتی امیدوں،آرزوؤں اور تمناؤں کو اپنے سینے سے لگانے کیلئے بلوچستان کے لوگ اور آگے بڑھتے جائیں گے۔
جہاں ہمیں دستوریہ کے انتخابات میں سرکارکی جانبداری و حکام کی دل چسپی پر اعتراض ہے وہاں ہم اس امر پر بھی اپنی حیرات کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ڈاکٹر خان صاحب جیسے ایک با اصول شخص اس قسم کی بے اصولی پرکیونکر مجبور ہوئے۔ایک عوامی شخصیت کی عوامی خواہشات سے بے نیازی ایک بہت بڑا المیہ ہے جس پر ہم آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ممکن ہے کہ وہ اس انداز سے دستور کے منتخب رکن کہلا کر عارضیْ ظاہری اور سطحی بلندیوں کی معراج تک پہنچ جائیں۔لیکن وہ اپنی اس عظمت و بڑائی سے محروم ہوجائیں گے جو انکی انفرادی شخصیت کی بنیاد ہے۔اور جس کی بدولت وہ قیدی اور عام آدمی کی زندگی بسر کرتے وقت بھی لوگوں کی امیدوں کا مرکز رہے ہیں۔اس لئے ہمارے نزدیک ان کی یہ لغزش ایک عظیم سانحہ ہے جس کی وجہ سے ایک حقیقت پسنداور سادہ مزاج شخص جاہ و جلال شان و شوکت اور غرور و تمکنت کی دلفریب رنگینیوں پر اپنی زندگی کا اثاثہ ، اپنے اخلاص کی کشش ، اپنی صداقت کا حسن ، اپنا ماضی اپنا وقار اور غالباََ اپنے قلب کی راحت و تسکین کو نچھاورکرنے پر تلا ہواہے۔انکی کامیابی یقینی سہی۔ لیکن یہیں سے ان کی ناکامیوں کا دور شروع ہوتاہے۔اسی مقام پر بہت سی خوبیوں کو دفناکرنئی منزل کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کیلئے زاد راہ کی انہیں مصلح بینی ، کوتاہ اندیشی اور سودا بازی کے کھوٹے سکے بھی اپنے ساتھ لینے پڑیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل